مریدعباس قتل کیس کا مفرور ملزم دبئی سے واپسی پر گرفتار۔۔۔ 33

مریدعباس قتل کیس کا مفرور ملزم دبئی سے واپسی پر گرفتار۔۔۔

معروف ٹی وی اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کے دہرے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تقریباً چھ سال سے مفرور اشتہاری ملزم عادل زمان کو دبئی سے پاکستان واپسی پر پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا ہے، تاہم گرفتاری کے کئی روز گزر جانے کے باوجود بین الصوبائی قانونی اور انتظامی کارروائی مکمل نہ ہونے کے باعث ملزم کو تاحال کراچی منتقل نہیں کیا جاسکا۔ذرائع کے مطابق ملزم عادل زمان سپریم کورٹ سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد ستمبر 2020ء میں فرار ہوگیا تھا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے اسے اشتہاری قرار دیتے ہوئے اس کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اب اسے کراچی منتقل کرنے کے لیے سندھ اور خیبر پختونخوا کے متعلقہ حکام کے درمیان ضروری کاغذی اور قانونی کارروائی مکمل ہونا باقی ہے۔ واضح رہے کہ 9 جولائی 2019ء کو کراچی کے علاقے ڈیفنس، خیابان بخاری میں کاروباری لین دین اور مالی تنازع کے دوران معروف ٹی وی اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ درخشاں میں درج کیا گیا تھا، جس میں عاطف زمان اور اس کے بھائی عادل زمان کو نامزد کیا گیا تھا۔پراسیکیوشن کے مطابق مقتولین اور ملزمان کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری لین دین کے معاملات پر تنازع چل رہا تھا، جس کے نتیجے میں یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران دونوں بھائیوں کو مقدمے میں نامزد کیا، تاہم عادل زمان بعد ازاں ضمانت مسترد ہونے پر روپوش ہوگیا۔مقدمے کی طویل عدالتی کارروائی کے بعد 9 جولائی 2026ء کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے مرکزی ملزم عاطف زمان کو دونوں افراد کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے مجرم کو دونوں مقتولین کے ورثا کو پانچ، پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔عدالت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے علیحدہ مقدمے میں بھی عاطف زمان کو سات سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جبکہ مفرور شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی گرفتاری یا عدالت میں پیشی تک مؤخر کردی گئی تھی۔
مقتول اینکر مرید عباس کی اہلیہ اور مقدمے کی مدعیہ کی جانب سے معروف وکیل اور سماجی رہنما جبران ناصر ایڈووکیٹ نے قانونی ٹیم کے ہمراہ مقدمے کی پیروی کی۔ سات سال تک جاری رہنے والے عدالتی عمل کے دوران استغاثہ کی جانب سے گواہوں کے بیانات، فرانزک شواہد اور دیگر متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔عادل زمان کی گرفتاری کو دہرے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ ملزم طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی عدم موجودگی کے باعث اس کے خلاف مقدمے کی سماعت آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔ذرائع کے مطابق پشاور ایئرپورٹ سے گرفتاری کے بعد ملزم کی کراچی منتقلی میں تاخیر کی بنیادی وجہ متعلقہ صوبائی اداروں کے درمیان ضروری قانونی اور انتظامی دستاویزات کی تکمیل نہ ہونا ہے۔ تاہم ملزم کی کراچی منتقلی کی حتمی تاریخ اور متعلقہ عدالت میں پیشی کے شیڈول کے حوالے سے تاحال مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔قانونی طور پر عادل زمان کے خلاف قتل کے الزامات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور گرفتاری کے بعد اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی متعلقہ عدالت میں قانون کے مطابق آگے بڑھائی جاسکے گی۔مرید عباس قتل کیس گزشتہ سات برسوں کے دوران کراچی کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا رہا ہے۔ مرکزی ملزم عاطف زمان کو سزا سنائے جانے کے بعد اب مفرور شریک ملزم عادل زمان کی گرفتاری سے مقدمے میں مزید عدالتی پیش رفت کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں