چارسال بعد بھی ارشد شریف کو انصاف نہ مل سکا، آئی ایف جے۔۔۔ 12

چارسال بعد بھی ارشد شریف کو انصاف نہ مل سکا، آئی ایف جے۔۔۔

معروف صحافی اور ٹی وی اینکر ارشد شریف کے کینیا میں قتل کوچارسال مکمل ہونے پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے ایک بار پھر انصاف کی فراہمی اور واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔دونوں صحافتی تنظیموں نے مشترکہ مؤقف میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کو چار سال گزر جانے کے باوجود نہ تو کسی ذمہ دار شخص کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی کسی کے خلاف مؤثر فوجداری کارروائی عمل میں لائی جاسکی ہے، جو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سنگین سوالیہ نشان ہے۔سینئر صحافی ارشد شریف 23 اکتوبر 2022ء کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب اس وقت جاں بحق ہوگئے تھے جب کینیا کی جنرل سروس یونٹ کے پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی تھی۔ کینین پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو شناخت میں غلطی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے گاڑی کو اغوا یا ڈکیتی کے ایک مقدمے سے متعلق مطلوب گاڑی سمجھ کر فائرنگ کی۔ارشد شریف اگست 2022ء میں اپنے صحافتی کام سے متعلق مبینہ دھمکیوں اور مقدمات کے بعد پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے تھے۔واقعے کے بعد پاکستان کی جانب سے کینیا بھیجی گئی دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے دسمبر 2022ء میں اپنی رپورٹ میں ارشد شریف کے قتل کو بظاہر منصوبہ بند اور ہدف بنا کر کی گئی کارروائی قرار دیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کینین پولیس اور عینی شاہدین کے بیانات میں تضادات کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے اور تحقیقات کے لیے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم بعد ازاں آئینی تبدیلیوں کے نتیجے میں معاملہ وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوگیا، جس نے فروری 2026ء میں عدالتی کارروائی نمٹا دی۔ اس فیصلے کے باوجود فوجداری تحقیقات متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری رہیں۔
دوسری جانب کینیا میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے مقامی صحافتی تنظیموں کے تعاون سے قانونی جنگ جاری رکھی۔ کینیا کی عدالتوں نے ارشد شریف کی ہلاکت کو ان کے آئینی حقِ زندگی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خاندان کے لیے ایک کروڑ کینین شلنگ معاوضے کا حکم دیا۔تاہم 3 جولائی 2026ء کو کینیا کی سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے، تحقیقاتی ریکارڈ فراہم کرنے اور معاوضے میں اضافے سے متعلق اپیل مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمہ چلانے کا فیصلہ متعلقہ ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز کے اختیار میں آتا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ ارشد شریف کے قتل کے معاملے میں ذمہ داران کو سزا سے بچ نکلنے کی صورت حال برقرار ہے۔ تنظیم نے حکومت پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مقتول صحافی کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ چار سال گزرنے کے باوجود ارشد شریف کے قتل میں ملوث افراد کا احتساب نہ ہونا انصاف کی فراہمی میں سنگین ناکامی ہے، جس سے دنیا بھر کے صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش ناک پیغام جاتا ہے۔ عالمی صحافتی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور کینیا میں واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں، تحقیقاتی نتائج منظرعام پر لائے جائیں اور قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔دونوں تنظیموں نے واضح کیا کہ ارشد شریف کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی اور ذمہ داروں کے احتساب تک اس معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں