بلوچستان میں سیکیورٹی واقعات کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں ۔۔۔ 9

بلوچستان میں سیکیورٹی واقعات کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں ۔۔۔

(خصوصی رپورٹ)
حکومت بلوچستان نے صوبے میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور امن و امان سے متعلق واقعات کی میڈیا کوریج کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو پابند کیا ہے کہ وہ متعلقہ سرکاری اداروں سے تصدیق کے بعد ہی خبریں نشر یا شائع کریں۔ حکومتی اقدام پر صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادانہ صحافت اور بروقت معلومات کی فراہمی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ جرنلزم پاکستان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے پریس سیکریٹری کی جانب سے 18 اکتوبر کو جاری ہونے والی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج سے متعلق اطلاعات کی تصدیق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے کی جائے، جبکہ پولیس سے متعلق واقعات کی معلومات صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے حاصل کی جائیں۔حکومت بلوچستان نے ان ہدایات کا مقصد غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ کو روکنا اور عوام میں بے چینی، خوف اور غلط فہمیوں سے بچاؤ قرار دیا ہے۔ تاہم صحافیوں کا مؤقف ہے کہ معلومات کی تصدیق کا اختیار چند مخصوص دفاتر تک محدود کرنے سے حساس واقعات کی بروقت رپورٹنگ مشکل ہوجائے گی۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں پولیس افسران کو بھی مبینہ طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی واقعات کی تفصیلات براہ راست صحافیوں کو فراہم نہ کریں اور نہ ہی اپنے طور پر کسی واقعے کی تصدیق کریں۔ اس سے قبل مقامی صحافی متعلقہ تھانوں اور پولیس حکام سے رابطہ کرکے فائرنگ، دھماکوں، گرفتاریوں اور دیگر واقعات کی ابتدائی معلومات حاصل کرتے تھے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور بلوچ نے ان پابندیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی ہدایات کے نتیجے میں صحافیوں کو معلومات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض اوقات کسی واقعے کی سرکاری تصدیق حاصل کرنے میں پورا دن لگ جاتا ہے، جس کے باعث خبر بروقت عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔منظور بلوچ کے مطابق جب مستند ذرائع ابلاغ کو کسی واقعے کی تصدیق اور رپورٹنگ میں تاخیر کا سامنا ہوتا ہے تو اس دوران سوشل میڈیا پر افواہوں، غلط معلومات اور پروپیگنڈے کو پھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ان کے بقول پابندیوں سے غلط اطلاعات روکنے کے بجائے مستند صحافت مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بھی 13 اکتوبر کو سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز کے لیے ہدایات جاری کی تھیں، جن میں دھماکوں، فائرنگ، دہشت گردی کے واقعات اور دیگر ناخوشگوار واقعات کی براہ راست نشریات، دوبارہ نشریات اور کوریج سے متعلق پابندیوں کا اعادہ کیا گیا تھا۔پیمرا نے ٹیلی ویژن چینلز کو ہدایت کی تھی کہ وہ متعلقہ حکومتی محکموں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصدیق شدہ معلومات ہی نشر کریں۔ ریگولیٹری اتھارٹی نے نشریات میں تاخیر کا مؤثر نظام استعمال کرنے اور آزاد ادارتی بورڈز تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی تھی۔پیمرا نے خبردار کیا تھا کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے نشریاتی اداروں کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002 کی دفعات 29 اے، 30 اور 33 کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
بین الاقوامی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے 16 اکتوبر کو پیمرا کی پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ صرف سرکاری طور پر منظور شدہ معلومات پر انحصار کی شرط آزادانہ صحافت کو متاثر کرسکتی ہے۔سی پی جے کے افغانستان اور پاکستان کے نمائندے ولی اللہ رحمانی نے خدشہ ظاہر کیا کہ عوامی تحفظ کے نام پر متعارف کرائے جانے والے اقدامات معلومات پر حکومتی کنٹرول اور سنسرشپ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔اسی طرح انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بھی 21 اکتوبر کو ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ صحافتی تنظیموں نے تسلیم کیا کہ سیکیورٹی واقعات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ ضروری ہے، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ قانونی کارروائی کے خدشات کے ساتھ عائد پابندیاں صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں اس نوعیت کی پابندیاں پہلے بھی متعارف کرائی جاچکی ہیں۔ ستمبر میں کوئٹہ پولیس حکام نے اہلکاروں کو پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا کو انٹرویو دینے، بیانات جاری کرنے یا آپریشنل معلومات فراہم کرنے سے روک دیا تھا۔ اس سلسلے میں میڈیا سے رابطے کے لیے پولیس کے نامزد شعبہ تعلقات عامہ سے منظوری ضروری قرار دی گئی تھی۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں، جہاں دہشت گردی، مسلح کارروائیوں اور سیکیورٹی آپریشنز کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، معلومات کی بروقت فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق خبروں کی تصدیق صحافت کا بنیادی اصول ہے، تاہم تصدیق کے عمل کو صرف سرکاری اداروں تک محدود کرنے سے عینی شاہدین، مقامی ذرائع اور آزادانہ تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات کی اشاعت متاثر ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ حکومت بلوچستان کی 18 اکتوبر کی ہدایات میں خلاف ورزی کی صورت میں کسی علیحدہ سزا کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم پیمرا کی ملک گیر ہدایات میں ٹیلی ویژن چینلز کے خلاف قانونی و انتظامی کارروائی کا انتباہ موجود ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں