خواتین صحافی آن لائن ہراسمنٹ کیسز کیسے درج کرائیں۔۔۔ 13

خواتین صحافی آن لائن ہراسمنٹ کیسز کیسے درج کرائیں۔۔۔

(خصوصی رپورٹ)
پاکستان میں خواتین صحافیوں کو سوشل میڈیا پر ہراسانی، دھمکیوں، کردار کشی، جعلی اکاؤنٹس، بلیک میلنگ اور ذاتی معلومات کے غیر قانونی افشا جیسے مسائل کا سامنا ہو تو وہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کر سکتی ہیں۔ ادارے نے سائبر جرائم سے متاثرہ شہریوں کے لیے آن لائن شکایت درج کرانے سمیت مختلف طریقہ کار فراہم کر رکھے ہیں، تاہم شکایت کی باقاعدہ تصدیق کے لیے متعلقہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں ذاتی حاضری ضروری قرار دی گئی ہے۔جرنلزم پاکستان کے مطابق خواتین صحافی آن لائن بدسلوکی اور ہراسانی کی شکایات این سی سی آئی اے کے سرکاری پورٹل کے ذریعے درج کرا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں اپنی شناخت، واقعے کی مکمل تفصیلات اور متعلقہ ڈیجیٹل شواہد فراہم کرنا ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ خواتین صحافیوں کو شکایت جمع کرانے سے پہلے ہراسانی پر مبنی پیغامات، سوشل میڈیا پوسٹس، ویڈیوز، دھمکی آمیز تبصروں اور متعلقہ اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس یا اسکرین ریکارڈنگ محفوظ کرلینی چاہیے۔ ان شواہد میں واقعے کی تاریخ، وقت، متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور مکمل گفتگو کا ریکارڈ موجود ہونا شکایت کی وضاحت میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کی رہنمائی کے مطابق ڈیجیٹل شواہد کو غیر ضروری طور پر ایڈٹ یا تبدیل نہیں کرنا چاہیے تاکہ اصل مواد اور اس کا سیاق و سباق برقرار رہے۔ اگر کوئی پوسٹ یا پیغام بعد میں حذف کردیا جائے تو متاثرہ صحافی کو واقعے کی تاریخ، نوعیت اور دستیاب تفصیلات تحریری شکل میں محفوظ کرلینی چاہییں۔ این سی سی آئی اے کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہدایات کے مطابق شکایت کنندہ کو متعلقہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کے انچارج کے نام تحریری درخواست دینا ہوگی، جس میں نام، پتہ، شہر، رابطہ نمبر اور واقعے کی تفصیلات درج ہوں۔ اس کے ساتھ قومی شناختی کارڈ کی نقل اور دستیاب شواہد کی کاپیاں بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
شکایات آن لائن پورٹل complaint.nccia.gov.pk پر درج کرائی جا سکتی ہیں۔ آن لائن فارم میں درخواست گزار کا پورا نام، شناختی کارڈ نمبر، جنس، موبائل نمبر، شہر، جرم کی نوعیت اور واقعے کی تفصیلات طلب کی جاتی ہیں۔ فارم میں ای میل، پیشے اور ڈاک کے پتے کے خانے بھی موجود ہیں۔ادارے کے مطابق آن لائن درخواست جمع کرانا شکایت کے عمل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ متعلقہ قواعد کے تحت شکایت کنندہ کو معاملے کی تصدیق کے لیے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہری پاکستان میں کسی رشتہ دار یا قانونی نمائندے کو شکایت کی پیروی کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔این سی سی آئی اے نے شہریوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن 1799 بھی فراہم کر رکھی ہے، جبکہ پاکستان سٹیزن پورٹل اور ادارے کے متعلقہ دفاتر کے ذریعے بھی شکایات جمع کرائی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) بھی آن لائن ہراسانی سے متاثرہ خواتین، بالخصوص صحافیوں، کو معاونت فراہم کرتی ہے۔ تنظیم کی ڈیجیٹل سکیورٹی ہیلپ لائن پر سائبر ہراسانی، اکاؤنٹس ہیک ہونے، جعلی شناخت اختیار کرنے، ذاتی تصاویر کے غلط استعمال اور دیگر ڈیجیٹل خطرات کے سلسلے میں مفت اور رازدارانہ رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ہیلپ لائن 0800-39393 ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے خواتین صحافیوں کے لیے شکایات اور معاونت کا ایک مشترکہ طریقہ کار بھی موجود ہے، جس کے ذریعے قانونی مدد اور نفسیاتی و سماجی معاونت تک رسائی ممکن ہے۔
رپورٹ میں 23 اکتوبر کو سامنے آنے والے ایک مقدمے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق این سی سی آئی اے لاہور نے ایک خاتون صحافی کی شکایت پر فیس بک پر مبینہ توہین آمیز ویڈیو کے معاملے میں سیالکوٹ کے رہائشی محمد شہزیب المعروف شہزیب سیالکوٹی کو گرفتار کیا۔ تاہم گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا اور کسی ایک مقدمے میں کارروائی دوسرے مقدمات میں اسی نوعیت کے نتائج کی ضمانت نہیں ہوتی۔واضح رہے کہ این سی سی آئی اے میں شکایت درج ہونے کا مطلب فوری گرفتاری، مقدمے کے اندراج، سزا یا قابل اعتراض مواد کے لازمی طور پر ہٹائے جانے کی ضمانت نہیں ہے۔ ہر شکایت پر کارروائی دستیاب شواہد، متعلقہ قانون اور تفتیشی عمل کے مطابق کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں