پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ملک بھر کے سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز کو دہشت گرد حملوں، بم دھماکوں، فائرنگ اور دیگر ناخوشگوار واقعات کی کوریج سے متعلق سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان واقعات کی کوریج پر عائد پابندیاں محض براہِ راست نشریات تک محدود نہیں بلکہ ان کی نشریات اور دوبارہ نشریات پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ ٹی وی چینلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے واقعات کے بارے میں صرف وہی معلومات نشر کریں جن کی متعلقہ سرکاری محکمے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تصدیق کی ہو۔
پیمرا کی جانب سے 13 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے حکم نامے میں نیوز، حالاتِ حاضرہ اور علاقائی زبانوں میں پروگرام نشر کرنے والے تمام سیٹلائٹ ٹیلی ویژن لائسنس یافتگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دہشت گردی اور دیگر حساس واقعات کی کوریج کے دوران مقررہ نشریاتی ضابطوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں۔حکم نامے میں دھماکوں، بم حملوں، فائرنگ اور دہشت گرد حملوں کو واضح طور پر ان واقعات میں شامل کیا گیا ہے جن کی کوریج پر پابندیاں لاگو ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکم نامے میں دیگر ناخوشگوار واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس اصطلاح کی باقاعدہ تعریف فراہم نہیں کی گئی۔
پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی حساس واقعے سے متعلق موصول ہونے والی ویڈیو، عینی شاہدین کے بیانات یا دیگر اطلاعات کو محض موصول ہونے کی بنیاد پر تصدیق شدہ تصور نہ کریں۔ نیوز رومز کو اس بات میں واضح فرق برقرار رکھنا ہوگا کہ انہیں کون سی معلومات موصول ہوئی ہیں اور کن معلومات کی متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے۔
حکم نامے میں معلومات کی تصدیق کے لیے کسی مخصوص افسر کی منظوری، تصدیقی مراحل یا متعلقہ حکام کی جانب سے جواب دینے کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ تاہم ٹیلی ویژن چینلز پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ نشریات سے قبل معلومات کی متعلقہ اداروں سے تصدیق یقینی بنائیں۔
پیمرا نے تمام سیٹلائٹ ٹیلی ویژن لائسنس یافتگان کو اپنی نشریات میں ٹائم ڈیلے سسٹم مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس نظام کے ذریعے کسی بھی ویڈیو یا براہِ راست موصول ہونے والی نشریاتی فیڈ کو ناظرین تک پہنچانے سے پہلے مختصر وقفہ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ نیوز روم متعلقہ مواد کا جائزہ لے سکے اور نامناسب یا ممنوعہ مناظر کی نشریات روکی جاسکیں۔تاہم 13 اکتوبر کے حکم نامے میں ٹائم ڈیلے کی مدت سیکنڈز یا منٹوں میں متعین نہیں کی گئی۔ حکم نامے کے مطابق ٹائم ڈیلے سسٹم کا استعمال کوریج سے متعلق دیگر پابندیوں سے الگ ایک ادارتی اور تکنیکی ذمہ داری ہے۔ اس لیے محض نشریات میں تاخیر کا نظام استعمال کرنے سے ایسا مواد نشر کرنے کی اجازت نہیں مل جاتی جو پہلے ہی پابندیوں کی زد میں آتا ہو۔
پیمرا نے ٹی وی چینلز کو آزاد ادارتی بورڈ کی تشکیل یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ یہ بورڈ ادارتی نگرانی کے نظام کا حصہ ہوگا تاکہ حساس نوعیت کی نشریات کے حوالے سے ذمہ دارانہ فیصلوں کو یقینی بنایا جاسکے۔تاہم حکم نامے میں آزاد ادارتی بورڈ کے ارکان کی تعداد، ان کی تقرری کے طریقہ کار، اجلاسوں کی ترتیب یا بریکنگ نیوز کے دوران ہر فیصلے کی منظوری کے لیے کسی مخصوص طریقہ کار کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
پیمرا کی تازہ ہدایات دراصل 20 فروری 2023 کو جاری کیے گئے سابقہ حکم نامے کا اعادہ ہیں، جس میں دہشت گردی اور دیگر حساس واقعات کی کوریج سے متعلق پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ٹائم ڈیلے سسٹم اور ادارتی نگرانی سے متعلق ہدایات میں پیمرا نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس نمبر 28 مجریہ 2018 کے فیصلے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ستمبر 2022 کے حکم نامے، سی ایم اے نمبر 102 مجریہ 2022، کا بھی حوالہ دیا ہے۔
پیمرا نے ان عدالتی احکامات کو ٹائم ڈیلے سسٹم کے استعمال کے لیے مقررہ طریقہ کار کی پابندی سے منسلک کیا ہے، تاہم تازہ حکم نامے میں مذکورہ عدالتی فیصلوں کی مکمل تفصیلات یا قانونی تشریحات شامل نہیں کی گئیں۔
حکم نامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے ٹیلی ویژن چینلز کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002، ترمیم شدہ، کی دفعات 29-A، 30 اور 33 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تاہم پیمرا نے اپنے تازہ حکم نامے میں ان قانونی دفعات کے تحت ہر خلاف ورزی کی مخصوص سزا یا جرمانے کی تفصیلات بیان نہیں کیں اور نہ ہی کسی مخصوص ٹیلی ویژن چینل کے خلاف فوری طور پر کوئی سزا عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا ماہرین کے لیے ان ہدایات کا اہم پہلو یہ ہے کہ کسی بھی دہشت گرد حملے یا دھماکے کی بریکنگ نیوز نشر کرنے سے پہلے نیوز روم کو چار بنیادی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوگا، جن میں کوریج سے متعلق پابندیوں کی پاسداری، متعلقہ حکام سے معلومات کی تصدیق، ٹائم ڈیلے سسٹم کا مؤثر استعمال اور آزاد ادارتی بورڈ کی موجودگی شامل ہیں۔ان ہدایات کے عملی نفاذ کے نتیجے میں ناظرین کو دہشت گردی یا دھماکوں کے واقعات کی فوری تصاویر اور ویڈیوز نسبتاً کم دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جبکہ واقعات سے متعلق تازہ معلومات کے اجرا کا انحصار متعلقہ حکام کی تصدیق پر ہوگا۔
تاہم پیمرا کے حکم نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی واقعے کی تصدیق میں تاخیر کی صورت میں نیوز چینلز کیا طریقہ اختیار کریں گے یا سرکاری معلومات دستیاب نہ ہونے کی صورت میں رپورٹنگ کے لیے کون سا متبادل طریقہ قابلِ قبول ہوگا۔تازہ ہدایات کے بعد ٹیلی ویژن نیوز رومز کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایک جانب تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال سے ناظرین کو باخبر رکھیں اور دوسری جانب معلومات کی تصدیق، ادارتی ذمہ داریوں اور پیمرا کے نشریاتی ضابطوں کی مکمل پاسداری بھی یقینی بنائیں۔ پیمرا کے حکم نامے سے واضح ہوتا ہے کہ کسی واقعے کی تصاویر یا ویڈیوز فوری طور پر نشر کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ان مناظر کو نشر کرنا قانونی اور ادارتی طور پر بھی درست ہوگا۔ اس لیے نیوز چینلز کو بریکنگ نیوز کی رفتار کے ساتھ ساتھ معلومات کی صداقت اور نشریاتی قواعد کی پابندی کو بھی بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔
9