آپ صحافی ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے ! 11

آپ صحافی ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے !

تحریر: سید بدر سعید
چند سال سے صحافی بدترین معاشی اور پیشہ ورانہ بحران کا شکار ہیں۔ لگ بھگ 60 فیصد سے زائد کارکن صحافی تنخواہوں میں تاخیر، بےروزگاری ، ڈاؤن سائزنگ جیسے مسائل کا شکار ہیں ۔ دوسری طرف اس قدر سنگین حالات کے باوجود پریس کلبز اور یوجیز کی روایتی قیادت مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ سوال صحافتی قیادت پر نہیں ہے ۔ میرے لیے "کیس سٹڈی " یہ ہے کہ ان حالات کے باوجود مظلوم کارکن انہی پرانے چہروں کے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ ڈپریشن میں مر رہے ہیں لیکن فیصلہ نہیں کر رہے۔
میں نے اس پر بہت غور کیا ۔ مجھے اس کا جواب ماس کمیونیکیشن اور پولیٹیکل سائنس کی تھیوریز سے ملا ۔۔
گرامشی نے "کلچرل ہجیمنی تھیوری" پیش کی تھی جس کے مطابق قابض لیڈرشپ زبردستی مسلط نہیں ہوتی بلکہ وہ سائنٹیفک انداز میں کمزور طبقے کی ذہنی رضامندی حاصل کر کے اس پر اپنا تسلط قائم رکھتی ہے اور اس گٹھ جوڑ کو پولیٹیکل کلائنٹلزم یا پیٹرن کلائنٹ نیٹ ورک مزید مضبوط بناتا ہے کیونکہ اجتماعی حقوق کی جدوجہد کے بدلے چند منظورِ نظر افراد کو وقتی مراعات، فنڈز ، پلاٹوں کے وعدے یا ایکریڈیٹیشن کارڈز جیسی انفرادی سہولتیں دے کر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یہی سب صحافی کمیونٹی کے ساتھ بھی ہوا ہے اور یہی ملکی سیاست میں بھی نظر آتا ہے ۔
میں نے مزید جاننے کی کوشش کی تو مجھے جان جوسٹ کی "سسٹم جسٹیفیکیشن تھیوری" بھی ملی جو اس رویے کو واضح کرتی ہے کہ مسلسل معاشی خوف اور بے یقینی کے شکار افراد ناانصافی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کے بجائے اسی استحصالی نظام کا دفاع کرنے لگتے ہیں تاکہ ان کے اعصاب کو تحفظ کا ایک جھوٹا احساس میسر آ سکے ۔ یوں مارکسی اصطلاح کا فالس کانشسنس یا غلط شعور پوری شدت سے جنم لیتا ہے ۔ جہاں مزدور صحافی اپنے ہی اصل طبقاتی مفادات کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ اس پورے استحصالی چکر کے نتیجے میں اجتماعی سودے بازی کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور میڈیا انڈسٹری میں جرنلزم کے بجائے چرنلزم اور پی آر کلچر کو فروغ ملتا ہے جس سے فیک نیوز اور سستی سنسنی خیزی کے باعث عوامی سطح پر بھی ساکھ تباہ ہوتی ہے جبکہ قابل ذہن میدان چھوڑ کر برین ڈرین کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہمیں صحافت میں بھی اب فکری ، نظریاتی اور دانشورانہ سوچ نہیں مل رہی ۔ مفاداتی اور دیہاڑی کلچر بڑھ گیا ہے ۔ آپ کو یہاں لوگ اپنی قیادت کی گالی تک کا دفاع کرتے ملیں گے اور مخالف کی دلیل پر بھی سیاسی یتیم ہونے کا لیبل لگا دیں گے ۔ یہ کہانی ہر پریس کلب میں نظر آ جائے گی ۔ وہ شعبہ جو معاشرے کی آنکھ ہی نہیں دماغ بھی سمجھا جاتا تھا اب اپنی اہمیت کھو رہا ہے ۔ کبھی سیاست دان صحافیوں سے ملنے کی تگ و دو کرتے تھے لیکن اب صحافی لائن میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
یہ مسائل موجود ہیں ۔ جب تک بےروزگاری ، کم سیلری ، بڑھتی مہنگائی اور ڈاؤن سائزنگ جیسے مسائل رہیں گے تب تک ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ "قیادت " کرے گا اور مظلوم طبقہ ان کے نعرے لگائے گا ۔
میں نے اس صورت حال پر سوچا تو اس اس دلدل سے نکلنے کا بنیادی اور عملی حل ملا ۔ جس کا پہلا پوائنٹ ہی یہ ہے کہ مظلوم طبقہ کو مالی اور پیشہ ورانہ خود مختاری حاصل ہو ۔ روایتی لیڈرشپ کے اثر کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ صحافی روایتی میڈیا ہاؤسز کی تنخواہ پر سو فیصد انحصار ختم کر کے مائیکرو میڈیا اثاثے تشکیل دیں جن میں یوٹیوب چینلز، آزاد ویب پورٹلز اور نیوز لیٹرز شامل ہیں تاکہ وہ ایڈسینس ، سبسکرپشنز اور آزاد فنڈنگ کے ذریعے معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔
دوسرا حل تکنیکی مہارتوں کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا ہے جس کے تحت صحافیوں کو ڈیٹا جرنلزم ، اوپن سورس انٹیلیجنس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز پر مکمل عبور حاصل کرنا ہو گا کیونکہ جب ایک رپورٹر میں عالمی معیار کا تحقیقی کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ کسی مقامی ادارے یا پریس کلبز کے لیڈرز کی سفارش کا محتاج نہیں رہتا بلکہ ملکی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اس کے لیے آزادانہ کام کے لامحدود مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔
تیسرا حل تنظیمی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل ہے جس میں روایتی سیاسی دھڑے بندیوں سے ہٹ کر بیٹ کے اعتبار سے خود مختار مائیکرو نیٹ ورکس یعنی ایشو بیسڈ الائنسز بنائے جائیں تاکہ اپنے مسائل کا حل بھی کارکن کے اپنے ہاتھ میں ہو
آخری اور سب سے اہم حل انتخابی اور فکری بیداری ہے جس کے ذریعے پریس کلبوں اور یونینز میں ووٹ دیتے وقت ذاتی احسانات، پلاٹوں کی فائلوں یا وقتی لنچ ڈنر کو رد کر کے قیادت سے سروس اسٹرکچر ، قانونی تحفظ، کپیسٹی بلڈنگ کی ٹریننگز اور تنخواہوں کے شفاف ڈیش بورڈز پر مبنی تحریری معاہدوں کا مطالبہ کیا جائے تاکہ جوابدہی کا ایک ایسا ٹھوس نظام قائم ہو سکے جو طاقت کے اس استحصالی توازن کو ہمیشہ کے لیے توڑ دے۔
یہ سب مشکل نہیں ہے لیکن اس کے لیے آپ کو اس ذہنی دباؤ سے نکلنا ہو گا جس نے ہم پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو بہت چھوٹا اور ہنر کو بہت بڑا کر دیا ہے ۔ آج دنیا جس ہنر سے ڈالر کما رہی ہے وہ صحافیوں کی روٹین پریکٹس ہے ۔ صرف چند ٹیکنیکل سکلز اور پلیٹ فارمز کا علم نہ ہونا ہمارے معاشی طور پر خوشحال ہونے کے راستے میں رکاوٹ ہے ۔۔(سید بدرسعید)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں