سوشل میڈیا پر وی آئی پی ٹرینوں کی جاری مہم اوردوسراپہلو 11

سوشل میڈیا پر وی آئی پی ٹرینوں کی جاری مہم اوردوسراپہلو

تحریر: لیاقت رانا،سینئر صحافی۔۔
قراقرم کون سے پلیٹ فارم پر لگے گی ۔۔۔وہ تو کیسنل ہوگئی ہےآپ ساتھ والی بلڈنگ میں آخری کاؤنٹر پر چلے جائیں۔۔جی آپ کو پاک بزنس کی بوگی نمبر پندرہ میں سیٹ نمبر51اور 52دےدیاہے۔ یہ گاڑی کب چلے گی ۔۔۔۔یہ گاڑی پلیٹ فارم نمبر4سےساڑھے4بجےکراچی روانہ ہوگی۔۔۔یہ ساری گفتگو14اکتوبرکوتین بجےلاہورسے کراچی جانےوالی قراقرم ٹرین کےبارے میں 2بجکر45منٹ پر ہوئی۔
پاکستان ریلوے میں محترم سعد رفیق کےدور وزارت میں سفرکرنےکےبعد ایک مرتبہ پھرٹرین کے سفر کا موقع ملا توسابقہ خوشگوار سفرکی یاد ذہن میں رکھ ہانچ اکتوبرکو تیزگام ایکسپریس میں 9اکتوبر کیلئے سیٹس بک کرالیں۔جبکہ واپسی کیلئے قراقرم ٹرین میں 14اکتوبر کیلئے لاہور سے کراچی کیلئے بکنگ کروائی۔کراچی سے 9اکتوبر کو لاہور روانہ ہوئے 22 گھنٹے کے طویل سفر کے بعد لاہور پہنچے۔سارے سفرمیں محترم حنیف عباسی صاحب کی پرفارمنس پر سلام ہی بھیجتےرہے۔ لاہور پہنچنےکےدوسرے دن بڑے بھائی کیلئے واپسی کاٹکٹ بک کروانے ریلوے ہیڈکوارٹر پہنچا تو صفائی اور رجسٹریشن اسٹاف کارویہ انتہائی قابل تحسین لگا۔خیر ہماری واپسی کادن آگیا۔14اکتوبر کی صبح موبائل فون چیک کرکےواپسی کی تیاری کی۔تین بجے قراقرم ٹرین کی لاہور سے روانگی تھی ہم پندرہ منٹ پہلے لاہور اسٹیشن پہنچ گئے۔پلیٹ فارم پر جانے سے پہلےانفارمشن کاؤنٹر سے معلوم کیاکہ قراقرم ٹرین کےبارے پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ کینسل ہوگئی ہےآپ پاک بزنس کےکاؤنٹر پر چلے جائیں۔ٹکٹ تبدیل کرواکرپلیٹ فارم نمبر4 پر انتظار کرنے لگے۔کراچی کیلئےاسٹیشن پر موجود ایک مسافرنے بتایاکہ پاک بزنس ٹرین ساڑھے 6بجےجائےگی۔اس کی بات سن کرایک قلی کو روکرپوچھا تواس نے کہاساڑھے4بجے روانہ ہوگی۔خیرانتظارمیں 4 سے 5 بج گئےلیکن پاک بزنس کادوردور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔ٹہلتےثہلتےاسی کاؤنٹر پر پہنچ گیا پوچھنےپرجواب ملاکہ ٹرین کراچی سے بہت لیٹ ائی ہےاب یہ ٹرین ساڑھے6بجےجائےگی۔ساڑھے پانچ بجے پہلی بار اسٹیشن پر اناؤنسمنٹ ہوئی کہ قراقرم ٹرین کینسل ہوگئی ہےلہذا لاہورسے کراچی جانے والے قراقرم ٹرین کے مسافر پاک بزنس کے کاؤنٹرپر رابطہ کریں۔اس اناؤنسمنٹ سن کروفاقی وزیر ریلوےحنیف عباسی کی ریلوے اپ گریڈیشن پر یقین ہوگیا۔خیر مجبورا پھرواپس آکر پلیٹ فارم پر انتظارشروع کردیا۔پلیٹ فارم کےقریب ہی پٹری پر نظرپڑی توحنیف عباسی صاحب کی اپ گریڈیشن کےطریقہ کار اور کارکردگی کی سمجھ آگئی۔ریلوےانتظامیہ لاہور ریلوےاسٹیشن کےاردگرد پٹری کی زگ زیگ اور اپ اینڈ ڈاؤن پوزیشن ختم نہیں کرسکی تو وہ ادارے کی بہتری کیلئےکچھ کرنا تو دور کی بات ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتی۔کیونکہ بہتری لانےکیلئےآنکھ کان اور دماغ کادرست ہونالازمی ہےجبکہ ریلوےانتظامیہ ان چیزوں سے محروم لگتی ہے۔ 6بجکر14منٹ پر پاک بزنس پلیٹ فارم نمبر4پرآگئی۔۔ہم بھی بوگی نمبر15میں پہنچ گئےتو بوگی دیکھ کراندازہ ہوا کہ ریلوےانتظامیہ نے قراقرم ٹرین کےمسافروں پر احسان کرتےہوئےکسی لوکل ٹرین کے ڈبےپاک بزنس کے ساتھ ایڈجسٹ کردئیےہیں۔خیراللہ اللہ کرکے 6 بجکر 42 منٹ پر ٹرین نے رینگنا شروع کیا لیکن پانچ سات سیکنڈ بعد ڈرائیورکو احساس ہوا کہ غلطی سے گاڑی چل گئی ہےاس ئےفورا بریک لگادیا۔چندمنٹ کےبعد پھرغلطی سےٹرین چل پڑی لیکن ڈرائیورکوجیسے ہی گاڑی چلنےکا احساس ہوا اس نے بریک لگادی۔ یہ ایکسرسائز پورےسات بجےتک جاری رہی۔ساڑھے4بجے روانہ ہونے والی پاک بزنس سات بجےکراچی کیلئےروانہ ہوئی۔کچھ دیر کےبعد واش روم جانے کااتفاق ہوا تواندازہ ہوا کہ تیز گام کی طرح پاک بزنس سے منسلک کی گئی بوگیوں کے واش رومز بھی برائےنام ہیں تیزگام کی طرح ان بوگیوں کے واش رومز کے دروازے بھی کنڈی سے محروم تھے۔ہاں ایک چیز بہت حیران کن تھی کہ ہردو سے تین گھنٹےکےبعدپاک بزنس کی تمام بوگیوں میں صفائی کی جاتی رہی دیرسے چلنےکےبعدجس انداز میں ساری رات ٹرین چلی محسوس ہواکہ ٹرین وقت پر پہنچےگی اور ہماری شکایت کاکچھ نہ کچھ ازالہ ہوجائےگا لیکن نواب شاہ اسٹیشن سے جیسے ہی گاڑی نکلی ہماری خوش فہمی ہوا ہوگئی۔۔ڈرائیورکاجہاں دل کیاگاڑی روک لی حتی کہ ایک جگہ کچھ افراد کوٹرین پر سوار کرانےکیلئے بھی بریک لگادی گی۔
ہاں ایک واقعہ ذہن سےنکل گیاتھا۔نواب شاہ سے گاڑی نکلی تواچانک پنکھےبند ہوگئے پتہ چلا کہ کچھ نشئی بجلی کےتار کاٹ کر لےگئے انتظامیہ کی نا اہلی کااندازہ کریں کہ چلتی ٹرین سے نشئی بجلی کےتارکاٹ کرلےگے۔دو گھنٹےکےبعد بجلی بحال ہوئی۔ خیرگاڑی رکتے رکواتےساڑھےتین بجےڈرگ روڈ اسٹیشن پہنچی توہم بھی اللہ کاشکراداکرکےگاڑی سے باہر آگئے۔اب آپ لوگ خود اندازہ کرلیں کہ ریلوے کتنی اپ گریڈ ہوئی ہے۔لاہور ریلوےاسٹیشن توپہلے بھی صاف ستھراتھا اب حنیف عباسی صاحب کس چیزکی اپ گریڈیشن کررہےہیں۔(اگرلگزری ٹرین چلائی جارہی ہیں تو ان وی آئی پی ٹرینوں کاعام لوگوں کوتوکوئی فائدہ نہیں ) سمجھ نہیں آئی کیونکہ مسافرں کی سب سے پہلی ترجیع بر وقت منزل پر پہنچنا ہوتا ہے لیکن حنیف عباسی صاحب کی کوئی ٹرین دو سے پانچ گھنٹےکی تاخیر کےبغیر منزل پر نہیں پہنچتی۔ہفتہ ہفتہ پہلےبکنگ کرانےوالےمسافروں کوٹرین کےکینسل ہونےکااسٹیشن پر پہنچ کرپتہ چلےتومسافروں کو کتنی ذہنی کوفت اورپریشانی کاسامناہوتاہوگا وہ الگ ہےاس سے ریلوےکی کارکردگی کاپول بھی کھل جاتاہے۔اگرقراقرم ٹرین کوبندکرناہے یا پرائیوٹ کرناہےتواس کی سزامسافروں کوتونہ دی جائے۔(لیاقت رانا، سینئر صحافی)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں