67

دو صحافی 40 روز حراست کے بعد اٹک جیل سے رہا۔۔۔۔

صحافی رضی طاہر اور محمد سیف تقریباً 40 روز حراست میں رہنے کے بعد اٹک جیل سے رہا ہوگئے ہیں۔ دونوں صحافیوں کی رہائی کی تصدیق 9 ستمبر کو سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے ذریعے ہوئی، جس میں صحافی ہرمیت سنگھ کو رضی طاہر اور محمد سیف کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں کو یکم اگست کو اسلام آباد میں واقع ایک دفتر سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔رہائی کے بعد ہرمیت سنگھ نے ان صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے رضی طاہر اور محمد سیف کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی اور ان کا معاملہ مختلف فورمز پر اجاگر کیا۔ تاہم رہائی کے وقت سامنے آنے والی معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دونوں کی رہائی کسی عدالتی حکم، ضمانت یا انتظامی فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ رضی طاہر نے رہائی کے بعد اٹک جیل میں گزارے گئے 40 دنوں کو مشکل دور قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایک ایسے سیل میں رکھا گیا تھا جہاں بیک وقت آٹھ سے دس افراد موجود ہوتے تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جیل میں 16، 17 اور 18 سال کی عمر کے نوجوان زیر حراست تھے، تاہم ان نوجوانوں کی شناخت، مقدمات اور عمروں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آسکی۔ رضی طاہر نے کہا کہ حراست کے باوجود وہ اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔رضی طاہر اور محمد سیف کو یکم اگست کو اسلام آباد میں ان کے دفتر سے لے جائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق دونوں کو پولیس یونیفارم میں ملبوس افراد نے حراست میں لیا اور ابتدائی طور پر انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس وقت اسلام آباد پولیس نے دونوں صحافیوں کو اپنی تحویل میں رکھنے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ سی پی جے کے مطابق دونوں آزاد صحافی تھے اور رضی طاہر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے حالاتِ حاضرہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے تھے جبکہ محمد سیف ان کے ساتھ بطور صحافی کام کر رہے تھے۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس(آئی ایف جے) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یوجے ) نے بھی اگست میں دونوں صحافیوں کی گمشدگی اور حراست پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ رضی طاہر اور محمد سیف کی رہائی کے باوجود ان کی طویل حراست کے حوالے سے کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں، جن میں ابتدائی طور پر انہیں حراست میں لینے والے ادارے، حراست کی مکمل قانونی بنیاد اور ابتدائی دنوں میں ان کے مقام سے متعلق سرکاری معلومات کی عدم دستیابی شامل ہیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں