کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر اور سینئر صحافی رفعت سعید کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے طلب کیے جانے پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے شدید تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کیا ہے۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض، تحقیقاتی رپورٹنگ، خبر اور اظہارِ رائے کے حق کے باعث دباؤ یا ہراساں کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ رفعت سعید کی طلبی کا معاملہ صحافتی برادری انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔عہدیداروں کے مطابق رفعت سعید کا موقف ہے کہ ان کی رپورٹ میں درج ہر لفظ اور ہر دعوے کے مکمل شواہد اور دستاویزات موجود ہیں اور اسٹوری مکمل تحقیق اور دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کرپشن سے متعلق معاملات میں اتنے مکمل ثبوت اور دستاویزات کا دستیاب ہونا خود ایک اہم امر ہے، اس کے باوجود اگر تحقیقاتی رپورٹنگ پر قدغن لگائی جائے تو یہ صحافت کے بنیادی کردار کے لیے تشویشناک صورتحال ہوگی۔ صدر فاضل جمیلی اور سیکریٹری اسلم خان نے کہا کہ سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ پر خود ’’زیرو ٹالرنس ٹو کرپشن‘‘ جیسے واضح پیغامات درج ہوتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی صحافی دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے دباؤ میں لانا کسی صورت مناسب نہیں۔اگر کرپشن کے خلاف دستاویزات اور ثبوت کے ساتھ خبر بھی نہ دی جائے تو پھر صحافت کا احتسابی کردار کیسے ادا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی صحافی کے خلاف شکایت یا الزام ہے تو اس کا جائزہ قانون کے مطابق شفاف اور غیر جانب دار طریقے سے لیا جائے، تاہم تحقیقاتی صحافت کو محض طلبی، دباؤ یا کارروائی کے ذریعے محدود کرنے کا تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیے۔کراچی پریس کلب نے واضح کیا کہ صحافیوں کو کرپشن، بدعنوانی اور عوامی مفاد سے متعلق معاملات کی نشاندہی سے روکنے کی کوئی بھی کوشش آزادی صحافت پر قدغن تصور ہوگی۔ صحافیوں کو آئینی و قانونی حقوق حاصل ہیں اور ریاستی اداروں کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے آزادی اظہار، صحافتی ذمہ داریوں اور عوام کے حقِ معلومات کا احترام کرنا ہوگا۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، دباؤ میں لانے یا انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صحافتی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ضرورت پڑنے پر صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج بھی کیا جائے گا۔
85
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل