74

بلال غوری کو فوری رہا کیا جائے، سی پی جے۔۔۔

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستانی حکام سے صحافی اور وی لاگر محمد بلال غوری کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے،نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بلال غوری کی حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سرکاری عہدیدار کی تقرری کے حوالے سے صحافتی تبصرے پر صحافی کو حراست میں لینا پاکستان میں آزادیٔ صحافت کے لیے تشویش ناک پیش رفت ہے۔سی پی جے کے افغانستان و پاکستان نمائندے ولی اللہ رحمانی نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ بلال غوری کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف سائبر کرائم مقدمہ ختم کیا جائے اور صحافیوں کو ریاستی اداروں کے معاملات پر بلاخوف رپورٹنگ اور تنقید کی اجازت دی جائے۔ سی پی جے نے اپنے بیان میں اس سے قبل صحافی اسد علی طور اور سہراب برکت کے خلاف پیکا کے تحت ہونے والی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق بلال غوری کو ماضی میں بھی ان کی صحافتی سرگرمیوں کے حوالے سے قانونی جانچ کا سامنا رہا اور جون 2021 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انہیں مبینہ آن لائن ہتکِ عزت کے معاملے میں طلب کیا تھا۔سی پی جے کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سے بلال غوری کے معاملے پر ردعمل لینے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم تنظیم کی رپورٹ شائع ہونے تک انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں