ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے صحافی اور ویلاگر بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کردی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق صحافی بلال عوری کو 3 دن کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرعدالت میں پیش کردیا گیا، جویڈشنل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس پر سماعت کی۔ این سی سی آئی اے کیجانب سے مزید 6 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ریکوری یہ بتا چکے کہ ہو چکی ہے، اب ان کو مزید کس چیز کا ریمانڈ چاہئے؟ جب موبائل اور لیپ ٹاپ آپ نے قبضے میں لے لیا اور سوشل میڈیا اکاونٹ بھی ان کے پاس ہیں۔ وکیل عمران شفیق نے مؤقف اپنایا کہ پہلے یہ ثابت کریں کہ یہ اسٹیٹمنٹ غلط کیسے ہے؟ وکیل عمران شفیق نے جج سے مکالمہ کیا کہ غلط اسٹیٹمنٹ کیسے ہے آپ نے ان سے سوال ہی نہیں کیا۔ بلال غوری نے کہا کہ میرے سارے اکاؤنٹ اور میرے موبائل اور لیپ ٹاپ ان کے پاس ہے، تفتیشی افسر نے مؤقف اپنایا کہ ان کے اکاؤنٹ پر ڈبل ویریفکیشن لگی ہے، لاگ ان میں دشواری ہے، بلال غوری نے کہا کہ اب یہی بچا ہے کہ یہ میرے منہ سے زبان کھینچ لیں۔فریقین کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے بلال غوری کے مزید جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنایا اور بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کردی۔عدالت نے بلال غوری کو دوبارہ 12 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے بلال غوری کے خلاف مقدمہ 6 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ محمد عمیر وارثی کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کی دفعہ 20 اور 26-A کے تحت درج کیا گیا تھا۔ دفعہ 20 کسی شخص کے وقار سے متعلق جرائم جبکہ دفعہ 26-A مبینہ جھوٹی یا جعلی معلومات کے پھیلاؤ سے متعلق ہے۔ مقدمے کا تعلق بلال غوری کی جانب سے 5 ستمبر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق سوشل میڈیا اور وی لاگ میں کیے گئے تبصروں سے ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق این سی سی آئی اے کا الزام ہے کہ بلال غوری نے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری کے عمل اور حالات سے متعلق مبینہ طور پر غلط اور گمراہ کن معلومات سوشل میڈیا پر نشر کیں۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ مواد مبینہ طور پر بغیر قابلِ تصدیق حقائق کے پھیلایا گیا۔ دوسری جانب بلال غوری اور ان کے وکلا ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ ان کی گفتگو کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ نیکٹا کے ادارہ جاتی کردار اور کارکردگی سے متعلق تھی
82
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل