کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان، نائب صدر ارشاد کھوکھر، جوائنٹ سیکریٹری فاروق سمیع، خازن عمران ایوب اور اراکین مجلس عاملہ نے جنگ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھجوائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں گورننگ باڈی کے اراکین نے کہا کہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ کراچی پریس کلب اور اس کی منتخب قیادت نہ صرف میڈیا ورکرز کی اجتماعی آواز ہے بلکہ آزادی صحافت اور آزادی اظہارِ رائے کے لیے ہمیشہ سے ہراول دستے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان اپنا ماضی بھول گئے ہیں وہ جب بھی حکومتی عتاب کا شکار ہوئے، کراچی پریس کلب نے ہر فورم پرجنگ جیو کے صحافیوں کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے حق میں آواز بلند کی اور ان کے کیس کی حمایت کی۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ آج وہی میر شکیل الرحمان ایک جانب میڈیا ورکرز کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کر رہے ہیں اورنشاہندہی پر کراچی پریس کلب کی منتخب قیادت کو قانونی نوٹس بھجوا کر ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔کراچی پریس کلب کی قیادت نے واضح کیا کہ میڈیا ورکرز کے حقوق، آزادی صحافت اور آزادی اظہارِ رائے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پریس کلب اپنے منتخب صدر فاضل جمیلی اور میڈیا ورکرز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔رہنمائوں نے خبردار کیا کہ اگر قانونی نوٹس واپس نہ لیا گیا تو کراچی پریس کلب اپنے منتخب صدر فاضل جمیلی کی کردار کشی کے خلاف سخت احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہو گا جبکہ سول سوسائٹی، وکلا تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس قانونی کارروائی کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور معاملے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی اور گورننگ باڈی کے اراکین نے ممبر نیشنل پریس کلب و سینئر صحافی احتشام عباسی پر وفاقی دارالحکومت میں نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ حملے کے نتیجے میں احتشام عباسی شدید زخمی ہوئے۔نیشنل پریس کلب کی قیادت نے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کرائی جائے اور حملے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست اور پولیس کی ذمہ داری ہے، اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھجوائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے لیے آواز اٹھانے والے صحافتی اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں پشاور پریس کلب کے عہدیداروں نے جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمان کی جانب سے فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھجوانے کی مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کے پر، دباؤ یا کسی بھی قسم کے حربوں سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلبز صحافتی برادری کے اجتماعی مفادات، آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے تحفظ کے لیے قائم جمہوری ادارے ہیں اور ان کی منتخب قیادت کو اپنے مؤقف کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ پشاور پریس کلب اس جدوجہد میں کراچی پریس کلب اور اس کے صدر فاضل جمیلی کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ایم ریاض اور عالمگیر خان نے کہا کہ ملک بھر کی صحافتی برادری میڈیا ورکرز کے معاشی، پیشہ ورانہ اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور کسی بھی صحافی یا منتخب صحافتی قیادت کو دباؤ کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔ اور صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کی قیادت نے اپنے مشترکہ بیان میں جنگ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھجوائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ بی یو جے صدر منظور احمد اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید و کابینہ عہدیداروں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ایک سنجیدہ اور سینئر صحافی ہیں ورکرز کی حق میں بات کرنا کوئی جرم نہیں قانونی نوٹس تشویشناک ہے اسے واپس لیا جانا چاہئے اس طرح کے راستے اپنا کر میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب قیادت نے کراچی پریس کلب کے صدر سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے خلاف کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے ہر فیصلے میں ان کے ساتھ ہیں
سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی، جنرل سیکرٹری کامران شیخ، خازن شہزاد تابانی اور مجلس عاملہ کے تمام عہدیداران نے جنگ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھجوائے جانے کی پرزور اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سکھر یونین آف جرنلسٹس کے رہنماؤں نے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھیجنا دراصل میڈیا ورکرز کے حقوق کی آواز کو دبانے، آزادی صحافت کو پابندِ سلاسل کرنے اور ایک خود مختار ادارے کو دباؤ میں لانے کی ایک مذموم سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں اور قانونی شکنجے کے خوف سے میڈیا ورکرز اور صحافتی قیادت کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ بیان میں اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جو ادارہ خود اپنے مفادات اور بقا کے لیے ماضی میں کراچی پریس کلب کی ڈھال اور تعاون کا محتاج رہا ہو، آج وہی مالکانہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق و سچ کی آواز اٹھانے والی منتخب قیادت کو نوٹس بھجوا رہا ہے۔ سکھر یونین آف جرنلسٹس نے اس اقدام کو منافقانہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب ہمیشہ سے ملک بھر کے صحافیوں کا قلعہ اور ہر فورم پر ان کی آواز رہا ہے۔سکھر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداران نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی اور کراچی پریس کلب کی پوری مجلس عاملہ کے ساتھ چٹان کی طرح شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر یہ نام نہاد قانونی نوٹس واپس نہ لیا گیا تو سکھر کے صحافی ملک بھر کی دیگر صحافی تنظیموں، سول سوسائٹی، بار کونسلز اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ساتھ مل کر احتجاجی لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس ناانصافی کا بھرپور قانونی و جمہوری مقابلہ کیا جائے گا۔
30