anjanay kis ne arsh e ilahi hiladia

کیا ہم نے صحافت کی ناک پر خود کلہاڑا  نہیں مارا؟

تحریر: امجدعثمانی۔۔۔

اشاعتی ہوں یا نشریاتی ذرائع ابلاغ  ،میڈیا میں سارے بگاڑ کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ  ہے ایڈیٹر کے عہدے کا کمزور ہونا ۔۔۔۔۔۔کبھی اخبار میں ایڈیٹر ایک طاقت ور عہدہ ہوا کرتا تھا۔۔۔۔طاقت ور ایڈیٹر کے ماتحت ایک مضبوط اہڈیٹوریل بورڈ اور نیوز روم ۔۔۔۔یہ شعبے چھلنی کی مانند تھے ۔۔۔لیکن یہ تب تھا جب اخباری مالکان بذات خود صحافی تھے ۔۔۔۔تب ایڈیٹر کا عہدہ با اختیار ہوا کرتا تھا اور اخبار کے مالک بھی مداخلت سے ہچکچاتے تھے ۔۔۔۔اس لیے کہ تب ایڈیٹر کا عہدہ خود احتسابی کا استعارہ تھا اور اگلے دن اخبار کی سطر سطر کی ذمہ داری اٹھاتا تھا۔۔۔۔شاید یہی وجہ تھی اخباری مالکان کو کبھی بڑی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا کہ ایک ایک لفظ چھلنی سے گزر کر اشاعت کے لیے پریس میں جاتا تھا۔۔۔۔اس زمانے میں رموز اوقاف کی غلطی کا بھی تصور نہیں کیا جاتا تھا۔۔۔۔پھر اخباری مالکان صحافی کے بجائے بزنس مین ٹھہرے تو ایڈیٹر کا عہدہ بھی بے وقار ہو گیا ۔۔۔۔جومزاج یار کو بھایا وہ ایڈیٹر قرار پایا۔۔۔۔زیادہ تر مالکان کے مفادات کے محافظ ۔۔۔۔۔کہہ لیں کہ ایڈیٹر کا عہدہ کمپرومائزڈ ہوگیا۔۔۔اچھے بھلے مدیر غم روزگار میں اپنے منصب پر سمجھوتہ کرگئے یا بے روزگاری کو گلے لگا کر گھر بیٹھ گئے۔۔۔بزنس مین مالکان کی اس مفاد پرستی کے دو نقصانات ہوئے ۔۔۔۔ایک تو کانٹینٹ کمزور ہوا  جس سے صحافت کا معیار بری طرح گرگیا ۔۔۔۔دوسرا خود احتسابی کا عمل کمزور ہوا اور اس کی وجہ سے ریاست کے میڈیا پر تحفظات بڑھے اور غیر اعلانیہ سنسر شپ نے بھی پنجے گاڑھے ۔۔۔۔جو بڑی حد تک اخباری مالکان کے اپنے پیدا کردہ مسائل ہیں کیونکہ پہلے ایڈیٹر خود ہی خبروں کی چھان بین اور پھر قطع و برید کرکےاخبار کو کسی کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بچا لیتا تھا لیکن پھر یہ چھلنی چھاج کا روپ دھار گئی اور آٹے ساتھ چھان بورا بھی مکس ہوگیا۔۔۔۔ یہ تو تھا پرنٹ میڈیا کا حال۔۔۔۔الیکٹرانک میڈیا کا حال اس سے بھی برا ہے کہ وہاں بھی دو چار چینل چھوڑ کر کہیں کوئی جاندار ایڈیٹوریل بورڈ نہیں۔۔۔۔اوسی وی او اور اوسی پیکج فارمولے کے تحت سارا نظام کے اینڈ پیسٹ پر چل رہا ہے۔۔۔کئی ایک چینلز میں سطحی قسم کے کنٹرولر نیوز ۔۔۔۔ڈائریکٹر نیوز اور پروگرامنگ ڈائریکٹر ہیں جنہوں کبھی ادارت کی مشقت نہیں اٹھائی۔۔بریکنگ کی دوڑ میں ہلکان ہوئے پھرتے کارندے۔۔۔۔بعض چینلز میں تو رپورٹرزکو  ڈائریکٹر نیوز اور کنٹرولر نیوز کے عہدے سونپ دیے گئے ۔۔۔ بھلا رپورٹرز کو نیوز روم کے بکھیڑوں کا کیا علم ؟اسی طرح جیسے نیوز مین کے لیے رپورٹنگ کا میدان اجنبی اجنبی سا ہوتا ہے۔۔۔۔وہی بات کہ جس کام اسی کو ساجھے۔۔۔۔۔اچھے سے اچھا رپورٹر بھی خبر کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور نیوز روم اپنے زاویہ نگاہ سے جانچتا ہے ۔۔۔۔جانچ کا یہ فن ایک طویل ریاضت مانگتا ہے۔۔۔اسی ریاضت سے نیوز سینس جنم لیتی اور خبر کے حسن کو چار چاند لگاتی یے۔۔۔۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی یہ حالت ہوئی چلی ہے تو شتر بے مہار سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کی گراوٹ کا اندازہ آپ خود لگالیں کہ جہاں نہ کوئی رپورٹر ہے ۔۔۔نہ کوئی نیوز روم ہے اور نہ کوئی پروڈیوسر ہے ۔۔۔۔اس آوارہ جہان میں بس ایک پیرا شوٹرہی ہوتا ہے۔۔۔ وہ اپنے آپ کو سنئیر اینکر پرسن قرار دیتا اور جو من بھائے ارشاد فرماتا ہے ۔۔۔۔اور تو اور اب مفتی کوی اور مولوی مدنی ایسے مسخرے بھی اپنے آپ کو میڈیا کی “چن ملائی” سمجھتے ہیں۔۔۔۔حیف صد حیف ۔۔۔!!!سوال یہ ہے کیا ہم صحافت کے نادان دوست نہیں۔۔۔پرنٹ ہو یا الیکٹرانک میڈیا،کیا ہم  نے ایڈیٹر کا عہدہ کمزور کرکے صحافت کی ناک پر خود کلہاڑا نہیں مارا؟؟ہم نے رجوع نہ کیا تو آج نہیں تو کل لوگ یہی کہیں گے کہ صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔ (امجدعثمانی)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں