تحریر: اسعد نقوی۔۔
پیشہ وارانہ اور ذاتی زندگی میں فرق ہوتا ہے اور جب آپ سکرین پر پریزینٹر یعنی اینکر بن جاتے ہیں تو آپ گھریلو زندگی سے نکل کرپیشہ وارانہ طور طریقوں (پروفیشنل ازم) کی اس مقام پر قدم رکھ رہے ہوتے ہیں جہاں آپ کی ذاتی زندگی کم بلکہ پیشہ ورانہ زندگی کے پہلو زیادہ نمایاں ہوتے ہیں ۔سکرین پر کام کرنے والے صحافیوں خواہ وہ رپورٹر ہوں، اینکر ہوں ،تجزیہ کار ہوں یا کسی بھی طرح سے وہ سکرین پر آتے ہوں ان پر کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ان کو عام پبلک سے ہٹ کر کپڑوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ان کو کپڑوں کی میک اپ کی یا دیگر کئی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔بلکہ وہ ان کا ڈریس کوڈ بن جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر سٹوڈیو میں کام کرنے والے اینکرز ٹی شرٹ پہن کر خبریں نہیں پڑھتے۔پروگرام نہیں کرتے ۔سٹوڈیو کی تیز گرم لائٹس میں انھیں کوٹ پہننا پڑتا ہے۔اینکر میل ہو یا فی میل۔ یا تجزیہ کار سب پر سفید شرٹ کی ممانعت ہوتی ہے۔ان کو اس سفید شرٹ پر کوٹ لازمی پہننا ہوتا ہے۔
اس طرح جو آوٹ ڈور پروگرام کرتے ہیں ان کی بھی ڈریسنگ کے کچھ اصول ہیں۔ خواتین ہوں یا مرد دونوں کو ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کیا آپ کو چمکیلے بھڑکیلے کپڑوں میں کوئی اینکر نظر آیا ؟؟کیا کارٹون بنی ٹی شرٹس کسی اینکرز کی نظر ائئ؟ ایسا اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ یہ سکرین کے اصول ہیں۔
اسی طرح ہائی پروفائل میٹنگز یا پروگراموں کے بھی ڈریس کوڈ اور کلر ہوتے ہیں۔
ایک خاتون اینکر کے پہناوے پر چند روز سے تنقید ہو رہی ہے۔ دوسری جانب فیمینزم یعنی تانیثیت پسند خواتین اس پہناوے کو درست قرار دے رہی ہیں۔
یہاں چند سوال ہیں کیا خاتون اینکر اپنے گھر میں تھیں؟
کیا وہ میڈیا انڈسٹری میں نو آموز تھیں کہ ان کو بطور سکرین پریزینٹر یا رپورٹر ڈریسنگ کاپہناوے کا علم نہیں تھا؟
کیا پیشہ وارانہ زندگی میں پبلک فگر شخصیات صرف دوسروں پر سوال اٹھا سکتی ہیں اور خود کو پبلک فگر بنانے والی شخصیات کو اپنے اصولوں اور پہناوے پر غور نہیں کرنا چاہیے۔
کیا اسلامی مملکت کی اینکر کو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی ڈریس کوڈ یا کوٹ کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے تھا ؟
چلیں ملک کی نمائندگی بھی چھوڑیے ،وہسٹرن ڈریس بھی پہنے لیکن کیا سکرین کے اصولوں کے مطابق کوٹ پہن کر ڈریسنگ کو مزید بہتر کیا جاسکتا تھا۔
پیشہ ورانہ زندگی میں فیمینزم کا استعمال کیوں؟ وہاں بنیادی سبق تو یاد رکھا جانا چاہیے تھا ۔
اسی لیے اب اداروں میں تربیت کا فقدان ہے اب ضروری ہے کہ تربیتی سیشن میں پرسنل برینڈنگ اور لہجے پر توجہ دی جائے۔(اسعد نقوی)۔۔
