عمران جونیئر، نام ہے اعتماد کا۔۔۔

تحریر: اسرار ایوبی۔۔۔

روایتی صحافت میں اخبارات اور میڈیا ہاؤسز حکومت، اداروں سیاستدانوں اور شخصیات کی خبر لیتے ہیں، لیکن ان میڈیا ہاؤسز میں رونما ہونے والے واقعات کی خبریں منظر عام پر آنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ان کی خبر کون لے گا کیونکہ انہیں تو مقدس گائے سمجھا جاتا تھا۔۔

ان میڈیا ہاؤسز میں ہونے والی سرگرمیوں کی خبر لینے کے لئے علی عمران جونیئر نے پہلی دفعہ جرات کی اورمنفرد نیوز ویب سائٹ عمران جونیئر ڈاٹ کام  متعارف کرائی جسے بے حد قبولیت حاصل ہوئی اور اسے اس شعبہ کی اولین ویب سائٹ کا اعزاز حاصل ہے۔

عمران جونیئر ڈاٹ کام  کا شمار ملک کی ایک بااعتماد اور تہلکہ خیز نیوز ویب سائٹ میں شمار کیا جاتا ہے جو پاکستان میں خبروں کا کاروبار کرنے والے میڈیا ہاؤسزکے اندرون خانہ سلگتے مسائل،  سرگرمیوں، سازشوں،صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حالات کار،ان کی حق تلفیوں، اقرباء پروری، بد انتظامیوں اوربے ضابطگیوں کی چشم کشاء خبریں اورحیرت انگیز واقعات مستند  دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ منظرعام پر لاتی ہے  کہ ان میڈیا ہاؤسز کے مالکان سمیت اس ادارے کے ملازمین اور قارئین پڑھ کر ششدر رہ جاتے ہیں۔ خبروں کی دنیا اس قدر وسعت اختیار کرگئی ہے  کہ اب میڈیا ہاؤسزمیں رونماء ہونے واقعات بھی قارئین کے اہم خبروں کی شکل اختیار کرگئے ہیں اور ان کا  نہایت بے تابی سے انتظار کیا جاتا ہے۔

اس نیوز ویب سائٹ کے نو برس کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد اس کے بانی اور روح رواں علی عمران جونیئر نے اپنے قارئین سے اس ویب سائٹ کو مزید بہتر کرنے اور اصلاح کے لئے  تجاویز طلب کی ہیں۔

 اس نیوز ویب سائٹ کا سب سے معروف اور مقبول عام سلسلہ سینہ بہ سینہ کے عنوان سے “پپو کی مخبریاں”  ہیں۔ جس کے لئے  ناصرف میڈیا  مالکان،انتظامیہ اور ادنیٰ ورکر  تک بڑی بیتابی کے ساتھ  انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس بار ہمارے میڈیا ہاؤس میں رونما ہونے والے  درون خانہ حالات اور واقعات کے راز تو فاش نہیں ہوگئے۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ اس منفرد  سلسلہ کی اشاعت  کے بعد بعض میڈیا ہاؤسز کے  بڑوں کی   نیندیں تک اڑ جاتی ہیں کہ کہیں ہماری کارستانیاں تومنظرعام پر نہیں آگئیں،عمران نیوز ویب سائٹ پر سینہ بہ سینہ کےمقبول سلسلہ  کی اب تک ایک سو سے زائد سنسنی خیز اقساط شائع ہوچکی ہیں جن سے پاکستانی میڈیا ہاؤسز میں رونما ہونے والی سرگرمیوں ،سازشوں  کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔

اس نیوز ویب سائٹ پر شعبہ صحافت  کے مختلف  پہلوؤں پر ہمارے چند مضامین کی اشاعت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔علی  عمران کی شب وروز کی محنت اور ریاضت کی بدولت گزرتے وقت کے ساتھ عمران جونیئر ڈاٹ کام  پاکستانی میڈیا انڈسٹری کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی سنجیدہ اور قابل اعتماد ویب سائٹ کا درجہ اختیار کرچکی ہے، اس مقبول نیوز ویب سائٹ پر یومیہ روزانہ جتنا ٹریفک  آتا ہے وہ اس پر  اس کے محبوب قارئین کے اعتماد کا مظہر ہے جنہوں نے اسے ناصرف پذیرائی بخشی  بلکہ اس سلسلہ کو برقرار رکھنے کا حوصلہ دیاجس کے نتیجہ میں اس نیوز ویب سائٹ نے ایک فرد واحد سے وسعت اختیار کرتے ہوئے ایک باقاعدہ  پیشہ ورانہ ٹیم کی شکل اختیار کرلی ۔

 معلوم ہوا ہے کہ عمران جونیئر ڈاٹ کام کو پاکستانی میڈیا ورکرز کی بے لوث خدمات کرتے رواں برس دو اپریل کو نو سال مکمل ہوجائیں گے ۔ جو  ملک کی میڈیا انڈسٹری میں خبروں کے ایک نئے رحجان کے فروغ  میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ علی عمران جونیئر کا کہنا ہے کہ انہوںنےابتدا ہی سے اس نیوز ویب سائٹ کو میڈیا ہاؤسز کے ورکرز کی بے لوث خدمت کے جذبہ کے تحت ایک غیر منافع بخش منصوبہ قرار دیتے ہوئے اسے روایتی کمرشل ازم  سے دور رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے شعبہ صحافت کی عظیم روایات اور زریں اصولوں  کی لاج رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا تاکہ ہم  اپنے کڑے اصولوں اور معیار کو پوری طرح برقرار رکھ سکیں ہم نے اس عرصہ کے دوران پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض کام  انجام دیا۔

علی عمران جونیئر نے میڈیا ہاؤسز  کی دیواروں کے پیچھے پروان چڑھنے والی تہلکہ خیز خبروں ،سنسنی خیز انکشافات اور چشم کشاء خصوصی  رپورٹوں کو منظر عام پر لانے کا جو سفر آج سے نو برس قبل تن تنہا شروع کیا تھا وہ آج  عمران جونیئر ڈاٹ کام ایک پیشہ ور، منظم اور تجربہ کار ٹیم کی صورت میں جلوہ گر ہے جو صحافت کے اس عظیم مشن کو آگے بڑھانے  کے لئے کوشاں ہے۔ علی عمران جونیئر نے سچائی کے اس طویل  اور آبلہ پا سفر کےدوران جانے کیسے کیسے نشیب و فراز  کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا، علی عمران جونیئر کی زندگی ذاتی اور اجتماعی قربانیوں کی ایک طویل داستان بیان کرتی  ہے۔جس  کے دوران  انہوں نے بہت کچھ کھویا اور ناقابل تلافی نقصان  برداشت  کیا، سب سے پہلےذاتی طور پر اپنے قیمتی  صحافتی کیریئر کو داؤ پر لگایا،اپنے  اہل خانہ کے فاقہ کشی  جیسے کرب کاسامنا کیا   ان کےبچوں کی تعلیم  کا سلسلہ بری طرح متاثر ہوا۔ جو ان کی صحافت کے پیشہ سے سچی لگن اور وابستگی کو ظاہر کرتی ہےلیکن علی عمران جونیئر نے  ان  تمام نقصانات اور خسارہ جات کے عوض  اپنے شعبہ میں پائیدار عزت، وقار اور اعتماد کی انمول دولت کمائی اور  اپنےقارئین اور احباب کی بے پناہ محبتوں، چاہتوں اور حوصلہ افزائی کو سمیٹا۔ان تمام  نامصائب حالات  کے باوجود علی عمران جونیئر  ڈاٹ کام اپنے نصب العین “درستگی اور سچائی،آزادی،غیر جانبداری،انصاف، انسانیت ،جوابدہی اور شفافیت” کے عظیم اصولوں  پر ثابت قدمی سے ڈٹی رہی۔

علی عمران جونیئر ان اصولوں کی روشنی میں اپنے قارئین کے سامنے یہ وضاحت بھی پیش کرتے  ہیں کہ اگر آپ میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں تو یقینا آپ کا واسطہ عمران جونیئر ڈاٹ کام سے لازمی کہیں نہ کہیں پڑا ہوگا یا آپ  گزشتہ نو  برسوں کے دوران ہمارے کسی خبر کا شاید شکار بھی ہوئے ہوں انہوں نے  بیحد محتاط طریقہ کار اپنایا اورکبھی بھی دانستہ طور پر کسی کو ذاتیات کی بنیاد پر اپنا ہدف  بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ کبھی یہ کوشش کی کہ ہم میڈیا انڈسٹری کے طبقہ اشرافیہ، اینکرز یا اعلیٰ عہدوں پہ کام کرنے والے لوگوں کی نجی زندگی میں تاکا جھانکی کریں اور ان کے خفیہ اسکینڈلز بھی بے نقاب کریں۔ ہمارا  نصب العین اور عزم صرف  میڈیا ہاؤسز کے اندر ہونے والے انتظامی اور دیگرمعاملات کو منظر عام پر  بے نقاب کرنا ہے تاکہ میڈیا ہاؤسز کے طاقتور مالکان اور انتظامیہ ورکرز یا صحافیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و نا انصافی یا زیادتیوں کی روک تھام  ہوسکے اور اپنی  اصلاح کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ ۔۔۔آخر کوئی تو ہے جو انہیں دیکھ  رہا ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ علی عمران جونیئر اپنے ان  عظیم مقاصد  کے حصول میں  نمایاں طور سےکامیاب ثابت ہوئے ہیں جس پر وہ صحافی برادری کی جانب سے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔(اسرار ایوبی، ای او بی آئی سابق افسر تعلقات عامہ،ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ،پاکستان)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں