تحریر: ریحان احمد۔۔
علی عمران جونیئر نے جب اپنی ویب سائٹ کی نویں سالگرہ پر کچھ لکھنے کا کہا تو میں شش و پنج میں پڑگیا کہ اب میں لکھو ں یا نا لکھوں؟ لکھوں تو کیا لکھوں؟لکھنے کے بعد کیا ہوگا؟ کوئی کیا سمجھے گا کوئی کچھ اور سمجھے گا ؟ ۔۔
خیرمیں نے انہیں جواب دیا کہ ہر چند کہ میرا اور ان کا مزاج صحافت بالکل الگ ہے لیکن میں لکھنے کی کوشش ضرور کروں گا کیونکہ میں انہیں اکثر یہ فیڈ بیک دیتا تھا کہ انہیں یا تو مکمل سچ پیش کرنا چاہیے یا پھر جب تک تصویر مکمل نہ ہو اپنی تحریر کو پبلش کرنے سے روکنا چاہیے۔ اب اس میں یقینا یہ بھی مسئلہ درپیش ہوگا کہ اگر وہ کسی بھی خبر کی تصدیق یا تردید کیلئے ہم جیسے صحافیوں سے رابطہ کرتے ہونگے تو ہم اپنے ادارے کے متعلق کسی بھی قسم کی خبر ان سے کیسے شیئر کریں کیونکہ یہ ہمارے نزدیک تو یہ انتہائی غیرپیشہ ورانہ عمل ہوسکتا ہے۔
علی عمران جونیئر سے میرا ایک اور تعلق بھی ہے اور وہ جیو ، تیز اوراینٹر ٹینمنٹ نیوز کا ہے۔ ہم نے ایک ساتھ کام کیا لیکن انھوں نے یہ ویب بنانے کے بعد دو تین جگہ مجھے بھی نہیں چھوڑا ۔۔ہاں ،ان کے نزدیک انھوں نے یقینا ہاتھ ہولا رکھا ۔
خیر، ایک قاری اور صحافی کے طور پر علی عمران جونیئر کے پیج پر میں کئی ایسی خبریں دیکھی جو کافی حدتک درست تھیں لیکن کچھ خبریں ایسے بھی نکلی جن کاکوئی وجود ہی نہیں تھا۔ کئی جگہ کوئی بھی شخص ”پپو”بن کر فائدہ اٹھاسکتا تھا وہ اپنے حصہ کا سچ،اطلاع یا الزام تو سامنے لے آتا تھا لیکن مکمل بات شاید قصدا آگے نہیں پہنچاتا تھا۔ لیکن کئی جگہ پر ”مخبریاں“ بھی درست تھیں اور پپو بھی ا ور کہیں آدھی ادھوری کہانی ۔
اب پاکستانی ٹی وی نیوز چینل اگر گیٹ کیپرز یا مانیٹر ہیں تو ان کی نگرانی کرکے خبریں چلانے والوں کو ان نیوز چینل سے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔ اس ویب سائٹ کے پاس بھی سب جگہ پہنچنے کے وسائل نہیں ہیں لیکن یہی وسائل والا مسئلہ نیوز چینلز کا بھی تو ہے۔
ٹکرز،گرافکس سمیت اینکر اور رپورٹر سے غلطی ہوسکتی ہے اور ہوتی رہتی ہے چاہے وہ املے کی ہو، قواعد کی یا پھر تلفظ کی حالانکہ نہیں ہونی چاہیے لیکن یہاں پاکستان کے میڈیا ڈائنامکس دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بالکل مختلف ہیں، کیبل آپریٹرز ہوں یا پنڈی، اسلام آباد،لاہور اور کراچی کے پریشر گروپس کا سینسر، کچھ مالکان کے بزنس چلانے کے بہانے، سوشل میڈیا کا پھیلاو،جس کا جہاں بس چلا اس نے اتنا دباؤ رکھا۔ملک بھر کی جامعات نے بھی بغیر سوچے سمجھے پولٹری فارمز کی طرح ڈپارٹمنٹ بنائے، میڈیا میں جانے والے بھی بغیر ریسرچ کے اس میدان میں کود پڑے۔
خیر، ہم کئی سالوں سے اُس انڈسٹری میں ہیں جہاں یکم تاریخ کو تنخواہ ملنا بھی بڑی بات تصور کی جاتی ہے۔ بیس پچیس میں سے دو،تین نیوز چینلز ہی ہیں جہاں یہ ریت پائی جاتی ہے باقی کچھ جگہ دیر بھی ہے اورکچھ جگہ اندھیر بھی۔ صحافیوں اور مالکان کو دوسری انڈسٹریز کی نسبت نشانہ بھی زیادہ بنایا جاتا ہے۔ کچھ جگہ صحافی اور مالکان بھی غالبا بیلنس برقرار نہیں رکھ پاتے جس کا خمیازہ اگلے دور میں بھگتنا پڑتا ہے۔
خیر میں کہاں سے کہاں نکل گیا، میری رائے میں علی عمران جونیئر کیونکہ خود بھی پریکٹکل صحافی رہے ہیں تو انہیں بھی غلطی اور غیر پیشہ ورانہ امور میں فرق رکھنا ہوگا۔ شروع میں کئی ایسی غلطیاں ہائی لائٹ کردیتے تھے جو ظاہر ہے غلطی سے ہی مسٹیک ہوئی ہوگی۔ جیسے ابھی ایک نیوز چینل کی غلطی وائرل ہے جو کہ اصولا آن ایئر نہیں ہونی چاہیے لیکن اُس طرح کی غلطیاں ہونے کے امکان ہر جگہ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح نام غلط چلنا یا غلط عہدہ لکھ دینا بھی غلطی ہے جو ایک ساتھ کئی چینلز کی سامنے لائی جاسکتی ہیں لیکن کسی بھی ایک چینل کی ایک غلطی کافی ہائی لائٹ ہوجاتی ہے اور پھر۔۔۔
میری ان تمام تجاویز اور تحفظات کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اس ویب سائٹ نے کئی بڑے اور بھاری پردے اٹھائے۔ انڈسٹری کی ایسی باتیں سامنے آئی جو شاید سات سمندر کی گہرائی میں ڈوب جاتی تھی۔ میڈیا میں کام کرنے والے ملازمین کے وہ مسائل بھی سامنے لائے گئے جو پہلے”سینہ بہ سینہ“ ہی آگے بڑھتے تھے۔علی عمران جونیئر نے انہیں چھاپنا بھی شروع کیا اورکئی جگہ وہ متاثرین کی آواز بنا۔
علی عمران جونیئر کی پیشکش کے بعد میں بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا لیکن کوڈ آف کنڈکٹ ی خلاف ورزی پر نسیم شاہ بھی نہیں بچ پائے ہیں تو امید ہے علی عمران جونیئر کا پیچ ہمارے نزدیک جو ان کی کمزوریاں ہیں ان پر قابو پائیں گے اور جو اُن کی طاقت ہے اس کو وہ قوت بخشیں گے۔کیونکہ میڈیااور میڈیا کے لوگوں کو اس طرح کی آواز کی ضرورت ہے ۔
جب علی عمران نے مجھے اس تحریر کا کہا تو میں نے کہا بھائی میں پوری ریسرچ کرکے لکھنے کی کوشش کروں گا آپ کی ویب سائٹ مکمل کھنگالوں گا اور اس میں سے ریفرنس لوں گا لیکن تین چار بار ٹرائی کرنے بعد میں نےتوبہ کی اور بطور قاری اپنی یاد داشت پر بھروسہ کرتے ہوئی یہ تحریر لکھی کیونکہ ماشا اللہ اس ویب سائٹ پر اتنی اسٹوریز اور پیجز تھے کہ ان کو دو چار دن میں کنگھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔ شکریہ۔۔(ریحان احمد)۔۔
(میڈیا انڈسٹری میں عثمان بھائی کے بعد آپ دوسری اور آخری شخصیت ہیں جن کے ٹیلنٹ اور کام کی ہمیشہ دل سے قدر کی اور آپ دونوں شخصیات سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا۔۔ پرنٹ میڈیا کے ایک سیدھے سادھے سے صحافی کو آپ دونوں حضرات نے ہی پالش کیا، اعتماد بخشا اور اس کی نالائقیوں کو بھی قبول کیا۔۔ آپ نے اپنی تحریر میں جو کچھ فرمایا،یہاں ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی وضاحت کردی جائے کیونکہ آپ اور ہم اس وقت تاریخ رقم کررہے ہیں۔آپ نے لکھا کہ آپ کو دوتین بار ہماری ویب نے نشانہ بنایا، یقینی طور پر ایسا ہوا ہوگا، ہماری ویب اور پیج کو ایک ٹیم چلاتی ہے، ٹیم کو اندازہ نہیں ہوتا کہ عمران بھائی کا کس سے کیسا تعلق ہے،پھر ٹیم جب کوئی چیز پبلک میں شیئر کردیتی ہے تو پھر لازمی سے بات ہے ٹیم کے سربراہ ہونے کی وجہ سے اسے “اون” بھی کرنا پڑتا ہے، اس پر اسٹینڈ بھی لینا پڑتا ہے۔۔آپ نے لکھا کہ پپو نے کچھ خبریں ایسی بھی شیئر کی جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔۔ اگر مثال دے دیتے تو ہم اپنی اصلاح کرتے اپنا احتساب بھی کرتے۔۔ چلیں مان لیتے ہیں فرض کیا ایسا کچھ ہے تو پھر شاید آپ ان خبروں کی بات کررہے ہوں جیسے کسی ادارے میں چھانٹیوں کی فہرست کی ہمیں اطلاع ملتی ہے، ہم خبر لگاکر آگاہی دینے کی کوشش کرتے ہیں، اب یہ بات وہاں کام کرنے والے ملازمین کو کیسے معلوم ہوگی کہ فہرست بنی، فہرست بن گئی یا فہرست میں کس کس کے نام ہیں۔ اب دوسرے پوائنٹ پر آجاتے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کبھی کبھی ہم ادھوری خبر بھی دیتے ہیں۔۔آپ ایک طویل عرصے سے ہماری ویب اور پیج کے قاری ہیں، یہ بات بھی آپ جانتے ہوں گے کہ ہم خبر ” ٹو داپوائنٹ” دیتے ہیں، سنسنی اور بریکنگ کی دوڑ سے باہر رہنے کی کوشش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور کا چٹپٹا پن ہماری خبروں میں نہیں ہوتا، سنجیدگی سے کوئی بات کہنے کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔پھر آپ نے خود بھی یہ تسلیم کیا کہ اداروں میں کام کرنے والے صحافی بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔۔ میں اگر کسی خبر کیلئے نیوزروم کے کسی عہدیدار کو کبھی غلطی سے فون کرتا ہوں تو یقین کریں کبھی فون پک نہیں ہوتا، کچھ دیر بعد کوئی اور کسی اور نمبر سے پوچھتا ہے فلاں صاحب کو فون کررہے تھے خیریت ؟ اب بتائیں بندہ ناچیز کیا کرے؟ پھر آپ بڑے چینلز میں ہمیشہ اہم عہدوں پر رہے۔۔ کیا کسی چینل میں ایسا کوئی ڈپارٹمنٹ ہے جس سے بندہ کسی خبر کی تصدیق یا تردید کراسکے؟ اب جب کسی چینل سے متعلق کوئی خبر ہوتی ہے تو مسئلہ ہمیشہ وہی ہوتا ہے کہ موقف کس سے لیں ؟
آپ نے اسکرین شاٹس کی نشاندہی کی، غلطیاں بالکل ہوتی ہیں، ہم سے بھی اکثر ہوتی ہیں۔ لیکن پرابلم یہ ہے کہ ہماری ویب اور فیس بک پیج پر ریڈرز یا فالوورز کی بڑی تعداد میڈیا سے باہر کی ہے۔ ہمارے ملک میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ٹوٹل تعداد کتنی ہوگی؟؟ بیس ہزار، تیس ہزار اور بہت زیادہ مبالغہ آرائی کرلی جائے تو چالیس ہزار۔۔۔ لیکن ہمارا ڈیلی کا ٹریفک اس سے کہیں زیادہ ہے۔۔ آپ یقین نہیں کریں گے روزانہ درجنوں غلطیوں والے اسکرین شاٹس ہمیں انباکس ہوتے ہیں، مہینہ میں ایک آدھ بار ہم ایک دو اسکرین شاٹس صرف اس لئے شیئر کرتے ہیں تاکہ میڈیا سے باہر کے لوگ یعنی عام عوام بھی میڈیا سے جڑے رہیں ،جس طرح کسی بھی نیوز بلیٹن میں ہرطرح کے مزاج والوں کیلئے خبر آن ائر کی جاتی ہیں کچھ اسی طرح کا معاملہ سمجھ لیں۔۔ باقی آپ کا شکریہ آپ سمجھتے ہیں ہمارے وسائل کیا ہوں گے۔۔ ہم تو اپنا دفتر آج تک اس وجہ سے نہیں بناسکیں کہ پھر وہاں کام کرنے والے ایکسپوز ہوجائیں گے اور میری طرح ان پر بھی نوکریوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔۔ایک بار آپ کے فیڈبیک کا دل سے ممنون۔۔ دعاگو۔۔ آپ کا اپنا۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔
