ہمارے پریس کلب ایسے ہی ہیں ۔۔۔۔

تحریر: امجدعثمانی۔۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے الیکشن میں امسال بظاہر  بڑا اپ سیٹ ہوا کہ برس ہا برس سے صاحب اقتدار  جرنلسٹ گروپ صدر سیکرٹری کی نشست ہار گیا۔۔۔۔اس پر بڑی ہاہا کار مچی گویا کوئی قیامت ڈھے گئی۔۔۔۔میرے خیال میں کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا کہ یہ گرینڈ الائنس کی فتح نہیں تھی بلکہ جرنلسٹ گروپ کے اندر کی واردات تھی جس کی گواہی باقی نشستوں پر جرنلسٹ گروپ کا کلین سویپ ہے۔۔۔۔اور پیچھے کے وار کی مدد سے کوئی فاتح نہیں ٹھہرتا ۔۔۔یہ سازش ہوتی ہے اور سازش سے پچھاڑے جانے لوگ مرتے نہیں امر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ہاں سازشی رو سیاہ ہوتے اور پھر منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔۔۔۔بہر حال الیکشن ہوا اور اس کی اچھی بات یہ تھی کہ جرنلسٹ گروپ کے سربراہ جناب افضل بٹ نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر شکست قبول کی جبکہ صدارتی امیدوار محترمہ نئیر علی نے سامنے بیٹھ کر شکست قبول کی ۔۔۔۔افضل بٹ اور محترمہ نئیر علی سے میری ایک ہی ملاقات ہے اور وہ بھی مختصر کہ جب دو سال پہلے میں لاہور پریس کلب کا نائب صدر تھا تو انہیں ایک تقریب میں خوش آمدید کہا۔۔۔یادش بخیر نئیر علی سے لاہور میں  ایک صحافتی ورکشاپ میں بھی ایک ملاقات ہے۔۔۔۔وضاحت کردوں کہ بٹ صاحب کبھی بھی میرے ممدوح نہیں رہے کہ ان کا نام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی تقسیم میں آتا ہے اور رحیم اللہ یوسفزئی ،ضیاالدین کمیٹی نے ان سمیت چار لوگوں کیخلاف فیصلہ دیا جن میں ہمارے لاہور کے  بڑے پائن بھی شامل ہیں۔۔۔میں یونین کے باب میں  نثار عثمانی سے فیض یاب سابق صدر پی یو جے جناب راجہ اورنگزیب مرحرم کی مجلس کا آدمی ہوں اور یونین کے انہدام پر راجہ صاحب کے آنسوئوں کا چشم دید گواہ ہوں ۔۔۔۔۔بہر حال افضل بٹ اور محترمہ نئیر علی نے اپنی شکست پر جس سٹیٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے

۔۔میں اس پر لب کشائی کرنا چاہتا تھا لیکن پھر سوچا کہ کہیں “مطیع جان سکول آف تھاٹ” زبانیں اٹھائے چڑھ نہ دوڑے ۔۔۔۔آج سوشل میڈیا پر یہ تصویر دیکھی تو قلم لب کشائی کے لیے بے قرار سا  ہوگیا۔۔۔۔تصویر میں نیشنل پریس کلب کے منتخب صدر جناب عبدالرزاق سیال کو سابق سیکرٹری این پی سی اور صدارتی مقابلے میں مدمقابل محترمہ نئیر علی گلدستہ پیش کررہی ہیں جوسٹیج سامنے بیٹھ کر شکست قبول کرنے کے بعد ایک اور اچھا جیسچر ہے ۔۔۔۔سیال صاحب ہمارے نظریاتی صحافی دوست جناب امتیاز وریاہ کے ممدوح ہیں اور ہمارے لیے بھی قابل صد احترام ۔۔۔۔اس سے پہلے کراچی پریس کلب میں بھی ایسا ہی جیسچر دیکھنے کو ملا جب نومنتخب صدر جناب فاصل جمیلی کو مدمقابل گروپ نے کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔۔۔۔کبھی لاہور پریس کلب میں بھی ایسا ہی منظر ہوتا تھا۔۔۔الیکشن کے نتائج کے موقع پر ہارنے والے امیدوار سٹیج پر موجود ہوتے۔۔۔ جیتنے والے دوستوں سے گلے ملتے اور مبارک دیتے تھے ۔۔۔۔اب کی بار بھی جناب اعظم چودھری نے ارشد انصاری صاحب کو صوتی پیغام کے ذریعے مبارک باد دی اور شکست قبول کی ۔۔۔۔بہر حال لاہور ہو ،کراچی ہو یا اسلام آباد پریس کلب ہمارے پریس کلب ایسے ہی ہیں جہاں الیکشن کے نتائج کے بعد تمام گروپس ایک گروپ بن جاتے ہیں ۔۔۔کہہ لیں ہمارے پریس کلبوں میں اس گئے گزرے زمانے میں بھی جمہوریت دیکھی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔!!!!

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں