peca ke khilaaf ki samaat wafaq ko mazeed 2 haftay ki mohlat

پاکستان میں پیکا کے تحت 187 مقدمات درج۔۔۔

 پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025 (پیکا) کی دفعہ 26 اے کے تحت اب تک 187 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد قانون کے نفاذ اور میڈیا کی آزادی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔وزیرِ داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ، تاہم حکومت کی جانب سے ملوث افراد کی تفصیلی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔دفعہ 26 اے آن لائن جھوٹی یا نقصان دہ معلومات کی دانستہ ترسیل کو ہدف بناتی ہے، جس کی سزا تین سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی مبہم شقیں صحافیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔سوالیہ وقفے کے دوران رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے حکومت سے سوال کیا کہ دفعہ 26 اے کے نفاذ کے ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ اس پر سینیٹر محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون صرف “دانستہ اور بدنیتی پر مبنی” اقدامات کے خلاف استعمال کیا جائے گا، جو عوام میں بے چینی یا خوف و ہراس پیدا کر سکتے ہوں، جبکہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت دی گئی آزادی برقرار رہے گی۔حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کئی صحافیوں کے خلاف اس نئے قانون کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ اگست 2025 میں خالد جمیل کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں وحید مراد پر گمراہ کن مواد شیئر کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ رفتار سے وابستہ صحافی فرحان ملک پر “ریاست مخالف” مواد شائع کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔میڈیا کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات رپورٹنگ اور آن لائن اظہارِ رائے پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 26 اے کی مبہم زبان اس کے غیر یکساں نفاذ کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر آزاد میڈیا اداروں کے خلاف۔حکومت کا کہنا ہے کہ سزائیں صرف ان صورتوں میں دی جاتی ہیں جب غلط معلومات عوامی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ بنیں، تاہم صحافی برادری اب بھی اس حوالے سے محتاط نظر آتی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں