وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان کے بڑے ٹیلی ویژن چینلز میں کام کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فرسودہ اسٹوڈیو انفراسٹرکچر، مالی مشکلات اور پبلک سروس ایئر ٹائم کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ملک کے ایک پرانے ٹی وی چینل کے پروگرام کی ریکارڈنگ کا دورہ کیا، جہاں وہ حالات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ان کے مطابق اگرچہ ٹی وی اسکرین پر جدید اور خوبصورت مناظر دکھائی دیتے ہیں، لیکن بعض اسٹوڈیوز کی حالت کئی دہائیوں پرانی عمارتوں جیسی محسوس ہوتی ہے، جہاں فرنیچر بوسیدہ اور دیکھ بھال محدود ہے۔ انہوں نے سیڑھیوں اور لفٹس جیسے حصوں تک رسائی کے نظام کو بھی ناقص قرار دیا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کئی پرانے میڈیا اداروں کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے۔ انہوں نے ان مالی مسائل کو روایتی براڈکاسٹ اداروں کو درپیش وسیع تر چیلنجز سے جوڑا، تاہم اپنی پوسٹ میں کسی مخصوص چینل کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کیا۔انہوں نے پبلک سروس ایئر ٹائم کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری تقاضوں کے تحت ٹی وی چینلز کو مخصوص دورانیے کے لیے سماجی پیغامات نشر کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) پر زور دیا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ یہ وقت کس طرح استعمال ہو رہا ہے اور آیا یہ اپنے اصل مقصد کو پورا کر رہا ہے یا نہیں۔ان بیانات پر تاحال کسی ٹی وی چینل کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پوسٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔ توقع ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں توجہ حاصل کرے گا، جہاں مالی دباؤ، تنخواہوں میں تاخیر اور انفراسٹرکچر کے مسائل پہلے ہی ایک اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
ٹی وی چینلز کے کمزور انفراسٹرکچر کی نشاندہی۔۔
Facebook Comments
