تحریر: نصیب علی تبسم،صدر میڈیا ورکرزآرگنائزیشن پنجاب۔۔
ایسے دور میں جب سچ لکھنا جرم بنتا جا رہا ہے اور حق کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، علی عمران جونیئر نے وہ جرات دکھائی جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میڈیا ورکرز اور صحافیوں کے حق میں قلم اٹھانا بظاہر ایک تحریر لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک جنگ ہوتی ہے—طاقتور میڈیا ہاؤسز، دباؤ اور اپنے روزگار کے خوف کے خلاف علی عمران جونیئر نے نہ صرف یہ جنگ لڑی بلکہ اپنی نوکری کو بھی داؤ پر لگا دیا، صرف اس لیے کہ سچ سامنے آ سکے اور مظلوم کی آواز بلند ہو۔ ان کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے الفاظ صرف خبر نہیں، بلکہ ان ہزاروں میڈیا ورکرز کے جذبات کی ترجمانی ہیں جو برسوں سے خاموشی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
آج میڈیا ورکرز اور ان کے خاندانوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں، کیونکہ انہوں نے وہ کہا جو سب کہنا چاہتے تھے مگر کہہ نہیں پاتے۔ یہ صرف ایک شخص کی جرات نہیں، بلکہ ایک تحریک کی شروعات ہے—ایک ایسی آواز جو طاقتور طبقوں کے ایوانوں تک پہنچ رہی ہے اور انہیں یہ احساس دلا رہی ہے کہ اب خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔(نصیب علی تبسم،صدر میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب)۔۔
