geo news se meera istefa

مارننگ شو متنازع مواد، متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ۔۔

سینئر صحافی انصار عباسی نے نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے پروگرام “مارننگ ود فضا” میں نشر’’ ہونے والے ایک متنازع حصے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 13 اپریل کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا، جس میں میزبان فضا علی کے شوہر کو براہِ راست نشریات کے دوران انہیں کندھے پر اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ فضا علی نے بعد ازاں انسٹاگرام پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “خوشگوار اور غیر ارادی لمحہ” تھا جس کے پیچھے کوئی منفی مقصد نہیں تھا۔یہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلی، جہاں صارفین نے اس بات پر بحث کی کہ آیا یہ بدلتے ہوئے تفریحی رجحانات کی عکاسی ہے یا نشریاتی ضوابط کی خلاف ورزی۔ کچھ افراد نے اس عمل کو بے ضرر قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے خاندانی ناظرین کے لیے غیر موزوں قرار دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انصار عباسی نے اس نشریات کو “بے حیائی” قرار دیتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی مخاطب کیا۔اس معاملے پر سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا، جن میں پنجاب اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ شامل ہیں۔ انہوں نے اس طرز عمل کو قومی ٹیلی ویژن کے لیے نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا مواد نوجوانوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو عوامی نشریات میں شائستگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں نشریاتی معیار، مواد کی نگرانی اور تفریح و ذمہ داری کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو اجاگر کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں مختصر ویڈیوز تیزی سے قومی سطح کے مباحثے کا حصہ بن جاتی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں