تحریر: نوید احمد میئو۔۔۔
السلام علیکم۔ کبھی کبھی صحافت کی دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ابھرتی ہیں جو محض خبر دینے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک روایت، ایک مزاج اور ایک جرات کی علامت بن جاتی ہیں۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام بھی گزشتہ نو برسوں میں ایسی ہی ایک آواز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس سفر کا آغاز فرد واحد کی جدوجہد سے ہوا، مگر آج یہ ایک ایسی شناخت بن چکا ہے جسے میڈیا انڈسٹری کا ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں جانتا ہے۔
نو سال کسی ویب سائٹ کے لیے محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک طویل آزمائش کا نام ہے۔ اس دوران حالات بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں، اور اکثر لوگ راستے بدل لیتے ہیں۔ مگر جو لوگ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں، وہی اپنی پہچان قائم کر پاتے ہیں۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام نے بھی اسی استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور آہستہ آہستہ میڈیا انڈسٹری کے اندر ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا جہاں وہ آوازیں بھی سنائی دینے لگیں جو عموماً دب جاتی ہیں۔
میڈیا ہاؤسز کی چمکتی اسکرینوں کے پیچھے کام کرنے والے ہزاروں کارکنوں کی کہانیاں اکثر منظر عام پر نہیں آتیں۔ ان کی محنت، ان کے مسائل اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں زیادہ تر خبروں کی دنیا سے اوجھل رہتی ہیں۔ ایسے ماحول میں عمران جونیئر ڈاٹ کام نے ایک ایسے آئینے کا کردار ادا کیا جس میں میڈیا انڈسٹری اپنے اصل چہرے کے ساتھ دکھائی دینے لگی۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے اس ویب سائٹ کو عام ویب سائٹس سے مختلف اور نمایاں بنایا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پلیٹ فارم سے بہت سی ایسی خبریں اور معلومات سامنے آئیں جنہوں نے میڈیا کے اندر چھپے ہوئے کئی پہلوؤں کو بے نقاب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس ویب سائٹ کو دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس کے قارئین میں صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ اینکرز، رپورٹرز، پروڈیوسرز اور میڈیا مالکان تک شامل ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ اس کی تحریریں خود اس انڈسٹری کے اندر موضوعِ گفتگو بن جائیں جس کے بارے میں وہ لکھ رہی ہو۔
تاہم ہر طاقت کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام کی سب سے بڑی طاقت اس کی بے باکی اور جرات ہے، لیکن یہی پہلو بعض اوقات اس کے لیے سوالات بھی پیدا کر دیتا ہے۔ صحافت کی اصل روح صرف خبر دینا نہیں بلکہ خبر کو اس توازن اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کرنا بھی ہے جس سے سچائی کی وقعت برقرار رہے۔
بعض مواقع پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خبروں کی اشاعت میں رفتار کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس عمل میں بعض اوقات تصدیق کے تمام تقاضے پوری طرح سامنے نہیں آ پاتے۔ اس سے نہ صرف خبر کے معیار پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ ناقدین کو بھی تنقید کا موقع مل جاتا ہے۔ اگر آنے والے وقت میں عمران جونیئر ڈاٹ کام تحقیق، شواہد اور مستند ذرائع کے ساتھ اپنی خبروں کو مزید مضبوط بنائے تو اس کی ساکھ پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے۔
ایک اور پہلو جس پر توجہ دی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پلیٹ فارم کو صرف انکشافات اور تنازعات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک وسیع فکری دائرے میں بھی داخل کیا جائے۔ اگر عمران جونیئر ڈاٹ کام میڈیا پالیسی، صحافتی اخلاقیات، نوجوان صحافیوں کی تربیت اور میڈیا کے مستقبل جیسے موضوعات پر بھی سنجیدہ مکالمہ شروع کرے تو یہ ویب سائٹ ایک نئی فکری جہت اختیار کر سکتی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ میڈیا انڈسٹری کے مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ضروری ہے۔ اس شعبے میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو خاموشی کے ساتھ دیانت داری سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اگر ان کی کہانیاں بھی اسی شدت اور دلچسپی کے ساتھ بیان کی جائیں تو یہ پلیٹ فارم نہ صرف تنقید کا مرکز رہے گا بلکہ امید اور حوصلے کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔
یہ بات بھی قابلِ احترام ہے کہ آپ نے ذاتی قربانیوں کا ذکر جس کھلے دل کے ساتھ کیا ہے وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ صحافت میں سچ بولنا ہمیشہ قیمت مانگتا ہے اور اکثر یہ قیمت مالی آسائشوں یا ذاتی سکون کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے یقین پر قائم رہتے ہیں۔
نو برس کا یہ سفر یقیناً قابلِ ستائش ہے، مگر اصل امتحان آنے والے برسوں میں ہے۔ اگر عمران جونیئر ڈاٹ کام اپنی جرات کو تحقیق کے ساتھ، اپنی بے باکی کو توازن کے ساتھ اور اپنی مقبولیت کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑ دے تو یہ پلیٹ فارم نہ صرف میڈیا انڈسٹری بلکہ صحافت کی تاریخ میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ عمران جونیئر ڈاٹ کام صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک بیانیہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو میڈیا کے اندر احتساب، سوال اور سچ کی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میری نیک تمنائیں اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ پلیٹ فارم مزید مضبوط ہو، زیادہ متوازن ہو اور صحافت کے اعلیٰ اصولوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے۔ والسلام۔۔( نوید احمد میئو،پاکستان ٹی وی)۔۔۔
(آپ کی تحریر میں کئی باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، اس کیلئے ہماری جانب سے وضاحت بھی ضروری ہے۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہم نے کبھی خبرکی اشاعت میں رفتار کو ترجیح نہیں دی۔ اس برق رفتاری کو الیکٹرانک میڈیا میں بریکنگ اور پرنٹ میڈیا میں ضمیمے کا نام دیا جاتا ہے۔ ہم خبر کو خبر کی حد تک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ آپ کی ویب پر میڈیا سے متعلق خبریں مختصر کیوں ہوتی ہیں، اس کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ہم ٹو دا پوائنٹ رہتے ہیں۔ لفاظی یا مرچ مصالحے سے گریز کرتے ہیں۔ ہاں سینہ بہ سینہ چونکہ زاتی بلاگ ہوتا ہے اس میں سیاق و سباق کے ساتھ پوری اسٹوری بتائی جاتی ہے۔ آپ نے مشورہ دیا کہ میڈیا انڈسٹری کے مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لایا جائے۔۔ ہم بالکل ایسا ہی کرتے ہیں جو میڈیا ہاؤس ورکرز کے مفاد میں کوئی اچھا قدم اٹھاتا ہے ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، کیونکہ عام کارکن کو شاید اندازہ نہیں کہ ادارے ہیں تو سب کے گھروں کے چولہے بھی جلیں گے اور روزگار کا سلسلہ برقرار رہے گا۔ ہماری کبھی یہ نیت یا ارادہ نہیں رہا کہ ہم کسی ادارے کو تباہ و برباد کردیں یا پوری میڈیا انڈسٹری کے پیچھے اس لئے نہیں لگے ہوتے کہ شاید ہمارا ارادہ ہو کہ ان کی برائیاں کرکرکے یہاں تالے لگوا دیئے جائیں۔ ہمارا فوکس صحافی یا میڈیا ورکرز کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، زیادتی اور ظلم ہوتا ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ ایسے لوگوں کی کہانیاں بھی سامنے لائی جائیں جو سر جھکا کر دیانت داری سے اپنا کام خاموشی سے کررہے ہیں۔ ہم ضرور ایسا کریں گے لیکن اس بات کی گارنٹی کون لے گا کہ پھر میڈیا ہاؤس کی انتظامیہ اسے ہماری ٹیم کا کوئی خاموش رضاکار نہ سمجھ لے۔ ماضی میں ایسے متعدد واقعات ہوچکے ہیں کہ ہم نے کبھی کسی خبر میں لاشعوری طور پر کسی کی تعریف کردی تو اس بیچارے کو نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔۔ آپ ایک طویل عرصہ سے ذاتی طور پر ہمیں جانتے ہیں، ہمارے مسائل و وسائل کا ادراک اوروں سے زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں، آپ کے فیڈبیک کیلئے شکرگزار۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔
