تحریر: محمد نواز طاہر۔۔
اشاعتی و نشریاتی اداروں میں سچائی کے انحطاط کے باوجود یہ ہرگز نہیں کہ سچائی کہیں نہیں ، یہ بھی درست نہیں کہ زندگی کا ہر شعبہ خبروں میں گول کردیا جاتا ہے اور اس کی خبر سو فیصد بلیک آﺅٹ ہوتی ہے ، کسی نے کسی زاویے سے شائع یا نشر ہوہی جاتی ہے۔ خبر شائع نہ ہونے کا حقیقی المیہ خبریں بنانے، سنانے اور دکھانے والوں کے ساتھ ہے جس کی بنیادی وجہ میڈیا ہاﺅسز کا طاقتور ہونے کے ساتھ باہمی مفادات کے تحفظ پر کمپرومائز نہ کرنا ہے جبکہ کارکن ان کے لئے محض ملازم کی سی حیثیت رکھتے ہیں جن کے مفادات پر وہ ذاتی مفادات ہرگز اسٹیک پر نہیں لگاتے ۔ جس سے یہ پورا میڈیم ہی سنسرڈ رہتا ہے اور کوئی یہ جان ہی نہیں پاتا کہ اس شعبے میں حالات کیسے چل رہے ہیں یعنی آٹا دال کس بھاﺅ ہے؟ ایسے ایسے حالات بھی گذرے کہ میڈیا مالکان کے ہاتھ چھوٹ پُوتوں نے کارکنوں کی پٹائی بھی کی ، کارکنوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی بھی کی لیکن کہیں کوئی خبر شائع نہ ہوئی ۔ البتہ سینہ بہ سینہ یعنی سینہ گزٹ سے اس کی اطلاعات اور اس پر تبصرے انڈسٹری کے اندر و باہر پوری شدو مد سے ہوتے رہے ، یہی سینہ بہ سینہ معلومات پاکستان میں بڑے پیمانے اور بڑے بجٹ کے دعوے کے ساتھ شروع ہونے والے’ بول ‘ ٹی وی کے بچاﺅ اور بحالی کی تحریک کے دوران سوشل میڈیا پر شیئر ہونا شروع ہوئیں ، اور زیر بحث آنا شروع ہوئیں ۔یہ” سینہ بہ سینہ“ ہمارے نوے کی دہائی کے کولیگ علی عمران جونیئر لکھا کرتے تھے جو بول کے متاثرین میں سے تھے اور شائد ابھی بھی ہیں۔
نوے کی دہائی میں ہم اکثر کسی ایسے پلیٹ فارم کے بارے میں سوچا کرتے تھے جہاں کارکنوں کی خبروں اور حالاتِ کار کو اسپیس دی جائے، یہ کراچی کے روزنامہ پبلک میں یونین کی سرگرمیوں اور درپیش حالات کا دور تھا ، اخبار بند ہوگیا ، سوچ برقرار رہی ، ہمارے اپنے حالات سازگار نہیں تھے کہ سوچ پر عملدرآمد کیا جاسکے لیکن ’بول تحریک ‘ کے دوران جب علی عمران جونئر کے’ سینہ بہ سینہ ‘ کو پذیرائی ملی تو بول تحریک کے ساتھ جو ہوا یا کیا گیا؟ ، متاثرین کے ساتھ کیا ہو؟ا اس پر پھر کبھی بات کریں گے، ابھی تو ’سینہ بہ سینہ ‘ کے اگلے قدم کی بات ہورہی ، جو اگلے مرحلے میں ایک ویب سائٹ میں تبدیل کردیا گیا ، یہ کلی کاوش علی عمران جونیئر کی تھی ، میں ان دنون روزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ پر کام کررہا تھا، علی عمران جونئر سے ویب سائٹ کے حوالے سے گفتگو ، مشاورت اور بحث جاری رہتی ، کچھ دیگر احباب بھی اس میں شامل ہوئے جنہوں نے حوصلہ شکنی کی کوششیں ناکام بنانے میں جونیئر کا بھرپور ساتھ حوصلہ افزائی سے دیا ، مالی تعاون کرنے کی پوزیشن میں کوئی تھا نہیں اور اگر کوئی تھا بھی تو اس نے اسے ضروری نہیں سمجھا اور وہ تنہا دٹے رہے، یوں یہ سلسلہ اس قدر آگے بڑھا کہ جب شائع اور نشر ہونے والے مواد کی صحت پر کم ہی اعتماد او اعتبار کیا جاتا ہے مگرعمران جونئر ڈاٹ کام پر پوسٹ ہونے والی اطلاعات کو نہ صرف اندسٹری میں کارکنان بلکہ مالکا ن بھی مستند مانتے ہیں۔ اس انڈسٹری کے حوالے سے دلچسپی رکھنے والے دیگر عناصر بھی اسے باقاعدگی سے پڑھتے ہیں اور صرف نو سال کے عرصے میں یہ واحد ایک ایسی ویب سائٹ بن گئی ہے جس کا اطلاعاتی مواد ( مضامین یا تبصروں کا معاملہ مختلف ہوسکتا ہے ) ناقابلِ تردید رہا ہے ۔
نوسال کے اس سفر میں علی عمران جونیئر نے مالی مسائل بھی بھرپور حوصلے کے ساتھ سہے ، لالچ کی کوششیں بھی ناکام بنائیں اور مالی منفعت کیلئے اشتہارات کے پیچھے دوڑ لگائی نہ ہی اسے کمرشل رنگ سے آلودہ ہونے دیا۔ ایسا نہیں کہ اس ویب سائٹ کیخلاف کسی نے اقدامات نہیں اٹھائے ، جسے حقائق سے تکلیف پہنچے اس نے قانون اور ریاستی اداروں سے تعلق اور سرمائے کے بل پر بھی استعمال کرنے اورڈرانے دھکانے کیلئے استعمال کیا ۔ خود میری ہی ایک اسٹوری پر بھی یہ صورتحال پیدا ہوئی ، یہاں عمران جونئر ڈاٹ کام کے مقابلے پر میڈیا اندسٹری کے طاقتور نظامیز تھے لیکن حقائق کے سامنے ٹِک نہیں سکے ، کچھ دیگر معاملات میں بھی کچھ لوگوں نے ریاستی و آئینی اداروں کے استعمال سے راستہ بند کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ اشتہارات کا حربہ استعمال کرنے کیلئے دو بڑے نشریاتی اداروں نے اپنے اشتہارات کی پیشکش بھی کی جس کا جواب ہمیشہ مہذب معذرت رہا ۔
عمران جونیئر ڈاٹ کام بلا شرکت غیرے فرد واحد کی محنت ، لگن اور استقامت سے یہاں تک پہنچی ہے ، لیکن مجھ سمیت تمام احباب اور اندسٹری کا ہر کارکن اسے اپنی ہی خیال کرتا ہے اور یہی علی عمران جونئیر کی کمائی ہے ۔ یہ مان ، یہ احساسِ ملکیت کسی اور ادارے کے نصیب میں نہیں آسکا۔ میں آج اس پر فخر کرتا ہوں ، اور اس وقت کو یاد کرتا ہوں جب کراچی کی سڑکوں پر ایسے ادارے کی کھچڑی پکاتے اور شیخ چلی کی طرح زمین پر گرا کر ہنسی میں اڑادیا کرتے تھے لیکن پُر عزم رہتے تھے، اس کی ہر لمحے تجدید اور عمل سے ثابت کرنے پر علی عمران جونیئر کو جتنی بھی مبارکباد پیش کی جائے اور تحسین کی جائے کم ہے ۔ (محمد نواز طاہر)۔۔۔
