سینئر صحافی مرحوم شان ڈہر کے اہلخانہ اور صحافتی تنظیم سیف جرنلزم نے ریاستی اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ایک صحافی کے قتل جیسے واضح کیس میں انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا تو یہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک پیغام ہے۔کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شان ڈہر کی ہمشیرہ فوزیہ ڈہر، بہنوئی ریاض حسین اور سیف جرنلزم کے نمائندے عادل جواد نے کہا کہ وہ ایک نہایت تشویشناک اور افسوسناک صورتحال کے پیش نظر میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔فوزیہ ڈہر کا کہنا تھا، “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندان اور صحافی برادری کے ساتھ اس سنگین مذاق کو فوری طور پر بند کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ صحافی شان ڈہر کے قتل کیس میں نامزد ملزم عرفان بروہی، جو گزشتہ 13 برس سے مفرور تھا، نے یکم اپریل 2026 کو ایڈیشنل سیشن جج لاڑکانہ کی عدالت سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی۔ عدالت کی جانب سے پولیس اور متاثرہ خاندان کو 6 اپریل کے لیے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔تاہم 2 اپریل 2026 کو لاڑکانہ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا۔ ایس ایس پی لاڑکانہ احمد چوہدری کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے شان ڈہر کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس موقع پر ملزم کی پولیس حراست میں ایک تصویر بھی جاری کی گئی۔اہلخانہ اور صحافتی نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کو ملزم کی عبوری ضمانت کے بارے میں علم تھا اور انہیں عدالت کی جانب سے نوٹس بھی موصول ہو چکا تھا، اس کے باوجود گرفتاری کا ڈرامہ رچایا گیا۔ ان کے مطابق فوٹو سیشن اور پریس ریلیز کے بعد ملزم کو رہا کر دیا گیا، جو پولیس اور ملزم کے درمیان مبینہ ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری ناانصافی کا تسلسل بھی ہے۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ شان ڈہر نے انتقال سے قبل اپنے اہلخانہ، مقامی صحافیوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے سامنے اپنے قاتلوں کی نشاندہی بھی کی تھی، لیکن اس کے باوجود 13 سال گزرنے کے باوجود ملزمان قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔اہلخانہ اور تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ کیس کی ازسرِ نو شفاف تحقیقات کی جائیں اور تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔انہوں نے سندھ حکومت اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ ذاکر حسین عرف شان ڈہر کے قتل کی تحقیقات ایک سینئر، دیانتدار اور اچھی شہرت کے حامل کم از کم ایس پی رینک کے افسر کے سپرد کی جائیں تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔مزید برآں، متاثرہ خاندان کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو یہ آزادیٔ صحافت اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہوگا۔واضح رہے کہ شان ڈہر ابتک نیوز کے رپورٹر تھے جنہیں یکم جنوری 2014 کو صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اپنی موت کے وقت وہ مبینہ طور پر عطیہ کی گئی ادویات کی غیر قانونی فروخت کی تحقیقات کر رہے تھے۔ایک دہائی سے زائد عرصے تک یہ کیس طریقہ کار کی خامیوں کا شکار رہا، جس میں مقامی حکام کی جانب سے اس ٹارگٹ کلنگ کو نئے سال کی تقریبات کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ کا نتیجہ قرار دینے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔اس کیس میں زیرِ سماعت واحد ملزم کو 2018 میں بری کر دیا گیا، جبکہ دو دیگر ملزمان، بروہی اور اس کا بھائی عامر، اشتہاری قرار دیے گئے اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک قانون کی گرفت سے بچتے رہے۔
