آزادی صحافت کا گلا دبانے کیلئے بنائے گئے پیکا ایکٹ سمیت دیگر کالے قوانین کے خاتمے کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے “صوبائی جرنلسٹس کنونشن” لاہور پریس کلب میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات پنجاب عظمی زاہد بخاری تھیں۔جس میں سینئر صحافیوں حسین نقی،خاور نعیم ہاشمی،ناصر زیدی ،علی احمد ڈھلوں کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس،پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور لاہور پریس کے لیڈران افضل بٹ، ارشد انصاری، آصف بشیر چودھری ،افضال طالب،نعیم حنیف،قمر الزمان بھٹی ، خواجہ نصیر، نائب صدر مدیحہ الماس، پی یوجے ایگزیکٹو کونسل کے ممبران سمیت سینئر صحافیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ کنونشن میں فیصل آباد ، گوجرانولہ ، ننکانہ ، اوکاڑہ سے صحافتی تنظیموں کے عہدیداران اور صحافی شریک ہوئے۔پنجاب جرنلسٹس کنونشن لاہور نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کومسترد کرتے ہوِئےاسے ایک ظالمانہ اور کالا قانون قرار دیا۔ لاہور پریس کلب میں جرنلسٹس کنونشن سے وزیر اطلاعات پنجاب عظمی زاہد بخاری اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے دو الگ الگ سیشنز میں بطور مہمان خصوصی خطاب کیا۔وزیراطلاعات پنجاب عظمی زاہد بخاری نے کہا مجھے ہمیشہ فکر رہتی ہے کہ صحافتی ورکرز کو تنخواہوں کو یقینی بنایا جائے ہم میڈیا اداروں کو دئیے گَئے اشتہارات کا آڈٹ کرائیں گے کہ کس کو کتنے وسائل دئیے گئے اور ان پر تنخواہوں کی کتنی ذمہ داری ہے ایسے اخبارات نہیں رہیں گے جو تنخواہیں نہیں دیتے عظمی بخاری نے سوال اٹھایا کہ پیکا نہ ہو تو آج قومی سلامتی کے اشوز کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا ہماری قوم سوشل میڈیا کے لئے تیار نہ تھی لہذا اسکا غلط استعمال ہوا، صحافتی اداروں کو ان صحافیوں کا احتساب کرنا ہوگا جو پروپیگنڈہ سیل کا حصہ ہیں اور ڈالر کمانے کے چکر میں اربوں پتی بن کے ملک کی سلامتی سے کھیل رہے ہیں۔انہوں نے میڈیا کو کنگ میکر کہتے ہوئے کہا کہ احتیاط اور ذمہ دارانہ SOPs بنانے ہونگے حکومتوں کو صحافیوں کو پڑھانا نہیں چاہئے لیکن پھر صحافیوں کو یہ کام خود کرنا ہوگا میں اس بات کی حمایت کرتی ہوں کہ اشتہارات کی تفصیلات DGPR کی و یب سائٹ پر ڈال دی جائیں۔ اور جو ادارے تنخواہیں نہیں دیتے ان کا وجود پنجاب میں ختم ہو جائے۔ہم ایسے اداروں کا آڈٹ کرائیں گے۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نےتسلیم کیا کہ پیکا کی قانون سازی کے وقت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی بروقت مشاورت نہ ہونے سے ایسے confrontation جیسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں پیپلز پارٹی کے ساتھ میڈیا نے جو بھِی کیا مگر پیپلز پارٹی اس پر کبھی قدغن نہیں لگائی احتساب بھی ضروری ہے اور قانون سازی کے وقت مشاورت بھی کرنی چاہیے ،مشاورت سے وہ راستہ نکالنا ہوگا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں احتساب صرف سیاستدان کا ہوتا ہے مگر بیورو کریسی اور بیرون ملک جزیرے خریدنے والے جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدرافضل بٹ نے کہا ہم بھی قواعد بنانا چاہتے ہیں بلکہ باضابطہ مسودہ تیار کررہے جس میں ساری ڈسڑک سطح کی تمام صحافتی تنظیموں کو شامل کیا گیا ہے اسکے بعد مسودے کوسیاسی جماعتوں کے پاس اور پھر پارلیمنٹ میں لے جایا جائے گا اور اگر وہاں بھی سنوائی نہ ہوئی تو پھر ہم احتجاج کی کال دے دیں گے۔سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک ڈریکونین لا ہے جس میں 2016 کے بعد ہر حکومت نے حصہ ڈالا لیکن 2025 کی ترامیم کے بعد ساری تنظیمیں حرکت میں آئیں ،ہم جدوجہد جاری رکھیں گے تب تک جب تک اس کی متنازع شقوں کوختم نہیں کیا جاتا ، ہتک عزت کا قانون صحافیوں سے شروع ہو کر کیمرا مین تک کو پکڑتا ہے جو پورے معاشرے کے لئے نہیں بلکہ صرف صحافت تک محدود رکھا معلوم ہوتا ہے، صدر لاہور پریس کلب نے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ابھی انھیں پیکا کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔سابق سیکرٹری جنرل ناصر زیدی سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی ، حسین نقی ، نعیم حنیف ، قمرالزمان بھٹی ، انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے نائب صدر راجہ اشرف ، سینئر صحافی علی احمد ڈھلوں، سنگت فا?نڈیشن پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زاہد اسلام ، دانشور ڈاکٹر جعفر۔ ایپنک کے سیکرٹری جنرل اصغر خان ، تمثیلہ چشتی نے خطاب کیا۔ سینئر صحافی حسین نقی نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحافت پر ایک وقت میں کئی قوانین موجود ہیں صحافت کے نام پر کبھی فیک نیوز تو کبھی آزادی اظہار رائے پر اسٹیک ہولڈرز کو شامل کئے بغیرقوانین بنائے گئے۔سابق سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ ہمیں پیکا قانون کی شق وار مشاہدہ کرنا ہوگا صحافتی تحفظ کا قانون کو مکمل جائزہ لے کر حکومت کو دیا، ،تین طرح کے قوانین کابغور جائزہ لے کر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے تجاویز حکومت کو پیش کر دی جائیں گے۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدرنعیم حنیف نے کہاکہ ایسے قوانین سے تاریخ بھری ہوئی ہیں قانون بنانےوالے حکمران اوران کے قائدین ہمارےساتھ پریس کلب کی دریوں پربیٹھ کراحتجاج کرتے رہے ہیں پی یو جے کی صدر اورکنونشن کے میزبان نے ایک قرارداد بھی پیش کی جسے کنونشن میں موجود پنجاب بھر سے آئے شرکا نے متفقہ طور پر ہاتھ اٹھا کرمنظورکیا قراردار میں کہا گیا کہ پیکا ایکٹ صحافیوں کو دباو میں لانے اور پاکستان کے میڈیا منظرنامے کو مکمل طور پر خاموش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ہم ریاست کی اس وعدہ خلافی کی شدید مذمت کرتے ہیں کہ یہ قوانین کبھی بھی صحافت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہوں گے۔ اس عہد کی پاسداری کے بجائے، حکام نے اپنی مہم کو مزید بڑھاتے ہوئے عدالتی ہراسانی، صحافیوں کو انٹرنیشنل پروازوں سے جبری طور پر اتارنے، اور بیرونِ ملک پیشہ ورانہ سفر پر پابندیاں لگانے جیسے اقدامات کیے ہیں، جو خوف اور دھمکی کے ایک ہمہ گیر ماحول کو جنم دیتے ہیں۔یہ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ پیکا قانون کے تحت صحافیوں کے خلاف تمام مقدمات کو فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لیا جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیکا کے فریم ورک کا فوری اور شفاف جائزہ لیا جائے تاکہ اسے ریاست کے چوتھے ستون کے خلاف سیاسی انتقام کے آلے کے طور پر مزید استعمال نہ کیا جا سکے۔ مزید برآں، ہم صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تمام بقایا تنخواہوں اور واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ معاشی دباو میڈیا کی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔آخر میں، ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ صحافت کوئی جرم نہیں ہے اور ریاست سچ بولنے والوں کو خاموش یا قید کر کے حقیقت کو دبا نہیں سکتی۔ موجودہ دھمکی آمیز ماحول نہ صرف ناقابلِ برداشت ہے بلکہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے انتہائی نقصان دہ بھی ہے۔ یہ کنونشن میڈیا برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ آزادی اظہار کا تحفظ ایک فعال جمہوریت کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ اصول ہے۔ پروگرام کے آخر میں تمام مہمانوں کے اعزاز میں پر تکلف عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔
