پاکستانی صحافی کا ایک باب گزشتہ روز خاموشی سے بند ہوگیا جب سینئر صحافی اور سابق مدیر عباس ناصر نے اپنا آخری کالم ڈان اخبار کیلئے لکھا۔سینئر صحافی اور سابق مدیر عباس ناصر نےڈان اخبار میں اپنا میں اپنا آخری کالم تحریر کرتے ہوئے اخبار کو درپیش سنگین مالی مشکلات کا انکشاف کیا ہے۔اپنے الوداعی کالم میں عباس ناصر نے بتایا کہ وہ گزشتہ 15 برس سے ڈان کے لیے مسلسل لکھتے رہے، جہاں انہیں مکمل اداریاتی آزادی حاصل رہی اور کبھی بھی ان کے مواد پر قدغن نہیں لگائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اخبار کو اشتہارات کی شدید کمی کا سامنا ہے، سرکاری اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ نجی شعبے کو بھی اشتہارات دینے سے روکا جا رہا ہے، جس کے باعث ادارہ شدید مالی دباؤ میں ہے۔عباس ناصر کے مطابق وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور موجودہ مالی صورتحال میں ڈان کے لیے زرمبادلہ میں ادائیگی ممکن نہیں رہی، جس کے باعث ان کا کالم بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے ایڈیٹرز، قارئین اور اہل خانہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگرچہ کالم نگار آتے جاتے رہتے ہیں، تاہم ڈان کو ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔عباس ناصر کی باتوں میں ایک ایسے شخص کا انداز جھلکتا تھا جو صرف اپنی مرضی سے نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے باعث پیچھے ہٹ رہا ہو۔ انہوں نے اپنے مدیران کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے انہیں دباؤ سے محفوظ رکھا اور آزادانہ لکھنے دیا، جبکہ اس تسلسل کے پیچھے ذاتی قربانیوں کا بھی ذکر کیا — جیسے ویک اینڈز پر لکھنا، حتیٰ کہ خاندانی تعطیلات کے دوران بھی۔انہوں نے اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی زندگی کو ان کے لکھنے کے معمول کے مطابق ڈھالا۔ تاہم شکرگزاری کے اس احساس کے بعد انہوں نے ڈان کو درپیش چیلنجز کا کھل کر ذکر کیا۔ عباس ناصر نے مالی بحران کی نشاندہی کی، جس کی ایک وجہ سرکاری اشتہارات کا خاتمہ اور نجی مشتہرین پر دباؤ بھی ہے، اور اسے ادارتی آزادی سے جوڑا۔اگرچہ بظاہر یہ ایک کالم نگار کے سفر کا اختتام ہے، مگر یہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک علامت بن چکا ہے۔۔ پاکستان میں آزاد صحافت کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ۔ناصر عباس کے آخری الفاظ، جن میں انہوں نے ڈان کے ادارے کی بقا پر زور دیا، ایک حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں: ادارے اہم ہوتے ہیں، مگر ان کی مضبوطی ان حالات پر منحصر ہوتی ہے جن میں وہ کام کرتے ہیں۔عباس ناصر کی رخصتی پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں مالی دباؤ اور ادارتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ سرکاری اشتہارات پر انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، اور یہ کہ محدود ماحول میں معتبر صحافت کو برقرار رکھنا کس قدر مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
