راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس(آرآئی یوجے) نے ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور ان کی جانوں کو لاحق سنگین خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینئر تحقیقاتی صحافی شمشاد مانگٹ کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی سفیروں کو ہنی ٹریپ کرنے والے مبینہ منظم گینگ اور اس کے پشت پناہ نامعلوم جعلی انٹیلیجنس آفیسر کی جانب سے ٹیلیفون کالز کے ذریعے شمشاد مانگٹ کو دی جانے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طارق عثمانی اور جنرل سیکرٹری رضوان غلزئی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آزادانہ اور بلا خوف و خطر انجام دینے کا محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک آزادی اظہار کا تصور ادھورا رہے گا۔نائب صدور فیصل اعوان اور جویریہ صدیق نے اپنے بیان میں کہا کہ تحقیقاتی صحافیوں کو ہراساں کرنا اور انہیں دھمکانا دراصل سچ کو دبانے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔جوائنٹ سیکرٹریز راجہ عبدالوحید جنجوعہ اور خالد اعوان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔فنانس سیکرٹری یاسر نذیر نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں، اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہوگی۔ انفارمیشن سیکرٹری مدثرالیاس کیانی نے کہا کہ یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، لہٰذا ریاستی اداروں کو فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ شمشاد مانگٹ کی جانب سے تھانہ کوہسار میں درج مقدمے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائیاور شمشاد مانگٹ کا کیس اور سینئر صحافی ظفر علی سپرا اور ان کے اہلِ خانہ پر ہونے والا قاتلانہ حملہ اسلام آباد پولیس کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ ان واقعات نے صحافی برادری میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کا ازالہ صرف فوری اور ٹھوس اقدامات سے ہی ممکن ہے۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ایک بار پھر ان بڑھتے ہوئے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور ان کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
