قومی اسمبلی میں سرکاری اشتہارات کے اخراجات پر سوالات کے جوابات نہ مل سکے۔۔ قومی اسمبلی میں سرکاری اشتہارات پر ہونے والے اخراجات سے متعلق اہم سوالات کے جوابات موصول نہ ہونے پر شفافیت اور احتساب سے متعلق نئے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔سوالیہ وقفے کے دوران متعدد اراکینِ اسمبلی نے وزارتِ اطلاعات و نشریات سے گزشتہ برسوں میں اشتہارات پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں، تاہم سرکاری جواب میں صرف یہ کہا گیا کہ “جواب موصول نہیں ہوا۔آزاد رکن قومی اسمبلی اوید حیدر جکھر نے ٹی وی چینلز پر اشتہارات کے اخراجات کی تفصیلات اور ان اخراجات کی وجوہات سے متعلق سوال کیا۔ اسی طرح آزاد رکن علی محمد خان نے گزشتہ تین مالی سالوں اور موجودہ مالی سال کے دوران اشتہارات کے بجٹ کی مکمل تفصیلات طلب کیں، جن میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تقسیم شامل ہے۔انہوں نے مختلف میڈیا ہاؤسز، چینلز، اخبارات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی طلب کیں، ساتھ ہی ہر ادائیگی کا مقصد بھی واضح کرنے کا کہا۔ مزید برآں، انہوں نے وزارت کے ذیلی اداروں میں بھرتیوں، امیدواروں کی اہلیت اور تقرری کے طریقہ کار سے متعلق معلومات بھی مانگیں۔میڈیا اخراجات کے آڈٹ، ان کے نتائج اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اصلاحی اقدامات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی دو اراکین، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو اور سیدہ شہلا رضا نے بھی اشتہاری بجٹ اور وزارت کے اخراجات سے متعلق سوالات جمع کرائے۔تاہم ان تمام سوالات کے باوجود وزارت کی جانب سے اجلاس کے دوران کوئی تفصیلی جواب فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث اراکین کو اس بات کی وضاحت نہ مل سکی کہ عوامی فنڈز میڈیا سیکٹر میں کس طرح تقسیم کیے جا رہے ہیں۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں سرکاری اشتہارات کی پالیسیوں پر پہلے ہی تنقید جاری ہے۔ ناقدین کے مطابق ہر سال اربوں روپے کے اشتہارات دیے جاتے ہیں، جنہیں اکثر حکومتی جماعتوں کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ عوامی آگاہی کے لیے ہوں۔یہ معاملہ خاص طور پر اس لیے حساس ہے کیونکہ ملک کی میڈیا انڈسٹری پہلے ہی اشتہاری آمدن میں کمی اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ بعض میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اشتہارات کی تقسیم میں سیاسی جانبداری ادارتی آزادی کو متاثر کر سکتی ہے۔
