radio pakistan ke pensioners ka ahtejaaji muzahira

ریڈیو پاکستان مسلسل تباہی کا شکار، اہم انکشافات۔۔

تحریر: مسعود چودھری

ریڈیو پاکستان تیزی سے بدعنوانی، اقربا پروری، بے قاعدگی اور مالی بے ضابطگیوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے، جہاں من مانی فیصلوں نے ایک اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

قومی نشریاتی ادارہ طویل عرصے سے ایسے افسران کے رحم و کرم پر چل رہا ہے جو اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں، حالانکہ سپریم کورٹ واضح طور پر یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ “اضافی چارج غیر معینہ مدت تک نہیں دیا جا سکتا”، مگر اس فیصلے کو عملاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اربوں روپے کے بیل آؤٹ پیکجز، خفیہ بھرتیوں، غیر فعال ٹرانسمیشن سسٹمز، متنازع عبوری ڈائریکٹر جنرل، اور دبائی گئی تحقیقات جیسے الزامات نے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیکس دہندگان یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ آیا یہ ادارہ واقعی حکومتی پالیسیوں کے تحت چل رہا ہے یا پھر ایک غیر رسمی اندرونی نظام قائم ہو چکا ہے جہاں فیصلے قواعد و ضوابط کے بجائے بااثر حلقوں کی خواہشات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن اس وقت بدانتظامی اور اقربا پروری کے باعث شدید انتظامی اور مالی بحران کا شکار ہے۔ ادارے کے لیے تقریباً 6 ارب روپے کے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست کی گئی، مگر صرف تقریباً 2 ارب روپے جاری کیے گئے۔ اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے گئے، لیکن عملی طور پر ان فنڈز کے استعمال میں شفافیت کے بجائے بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اب مالی بے ضابطگیوں کی آزاد اور شفاف آڈٹ کی مانگ زور پکڑ رہی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ فراہم کردہ وسائل کہاں اور کیسے خرچ ہوئے۔

انتظامی سطح پر سب سے بڑا تنازع موجودہ ڈائریکٹر جنرل کے کردار کے گرد گھومتا ہے، جو طویل عرصے سے “لُک آفٹر چارج” کے تحت ادارہ چلا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ طرزِ انتظام آئینی تقاضوں سے متصادم ہے، کیونکہ عارضی چارج کو مستقل انتظام کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا، بصورت دیگر اختیارات کا ارتکاز اور بدانتظامی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ مزید برآں، ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کی قانونی حیثیت بھی متنازع بنی ہوئی ہے، جبکہ سابقہ اور موجودہ قیادت کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ ان کے تبادلے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

افرادی قوت کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ ایک جانب “زیرو ریکروٹمنٹ” پالیسی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب 525 خالی آسامیوں کے باوجود 89 دن کے کنٹریکٹس پر مسلسل بھرتیاں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک غیر اعلانیہ بھرتی نظام ہے، جس میں نہ اشتہارات دیے جاتے ہیں اور نہ ہی میرٹ پر مبنی شفاف طریقہ کار اپنایا جاتا ہے، بلکہ تقرریاں پسند و ناپسند کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعدد افراد کو انہی 89 روزہ کنٹریکٹس پر بار بار رکھا جا رہا ہے، جسے “ریوالونگ ڈور ایمپلائمنٹ” کہا جاتا ہے۔ اس طریقے سے مستقل بھرتیوں پر پابندی کو بائی پاس کیا جاتا ہے جبکہ ملازمین کو مستقل حقوق، پنشن اور ملازمت کے تحفظ سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب اس معاملے پر سعید احمد شیخ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ غیر رسمی ذرائع کے مطابق حساس معلومات کو منظر عام پر آنے سے روکنے کے لیے دباؤ بھی موجود ہے۔

ادارے کی تکنیکی حالت بھی بدانتظامی کی عکاسی کرتی ہے۔ جنوری 2026 سے متعدد اسٹیشنز پر 100 کلو واٹ کے میڈیم ویو ٹرانسمیٹرز خراب پڑے ہیں اور بارہا اطلاع دینے کے باوجود ہیڈکوارٹرز سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کئی ٹرانسمیٹرز کی صلاحیت 100 کلو واٹ سے کم ہو کر 15 سے 20 کلو واٹ رہ گئی ہے، جبکہ 2021 سے خراب مدر بورڈز اور دیگر اہم آلات اب تک تبدیل نہیں کیے گئے۔ مزید یہ کہ 2017 سے اسپیئر پارٹس کی فراہمی معطل ہے، جس کے باعث نشریاتی نظام عملاً “وینٹی لیٹر” پر ہے۔ ایف ایم ٹرانسمیشن بھی تکنیکی تبدیلیوں کے بعد متاثر ہوئی ہے، جبکہ جلائے گئے ایک اسٹیشن کی مکمل بحالی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ایک حساس انکوائری بھی زیر بحث ہے جس میں ڈائریکٹر نیوز کو اسرائیل کے حق میں نشر ہونے والی خبر کا ذمہ دار قرار دے کر ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم ذرائع کے مطابق اصل ذمہ داروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی جبکہ کمزور ملازمین کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ اطلاعات کو عملدرآمد کی رپورٹ بھیجنے کے باوجود زمینی حقیقت مختلف دکھائی جاتی ہے اور متعلقہ افسر بدستور اپنے عہدے پر کام کر رہا ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پیش رفت نہ ہونا ادارے کے احتسابی نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

دیگر متنازع معاملات میں پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈمی سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلوں کا کیس بھی شامل ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان میں نمکین پانی تھا، جبکہ بیرونِ ملک دورے کے دوران دیے گئے تحائف سے متعلق وضاحتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان معاملات پر کوئی آزاد اور مؤثر تحقیقات سامنے نہیں آئیں، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔

مجموعی طور پر ادارے کی تصویر ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جو بیک وقت مالی بحران، انتظامی افراتفری، تکنیکی زوال اور احتساب کی کمی کا شکار ہے۔ خفیہ بھرتیاں، بیل آؤٹ فنڈز کے استعمال پر سوالات، اور تحقیقات کی غیر مؤثریت اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ من مانی فیصلوں کی حد یہ ہے کہ جب چاہا جس سے استعفیٰ لے لیا گیا اور ملازمین کو من چاہے انداز میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

اگر فوری، شفاف اور غیر جانبدار مداخلت نہ کی گئی تو ریڈیو پاکستان نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کھو دے گا بلکہ قومی سطح پر اپنی افادیت بھی کھو بیٹھے گا۔ اب تمام نظریں وزارتِ اطلاعات و نشریات پر ہیں کہ آیا وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر حقائق عوام کے سامنے لائے گی یا یہ معاملہ بھی دیگر حکومتی بحرانوں کی طرح وقت کے ساتھ دبا دیا جائے گا۔ (مسعود چودھری)۔۔۔

(زیرنظر تحریر سینئر صحافی مسعود چودھری کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس سے لی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا مذکورہ تحریر سے کوئی تعلق نہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں