دنیائے صحافت میں  آخری امید ۔۔

تحریر: ذیشان حیدر راجہ

سب سے پہلے تو دل کی گہرائیوں سے عمران جونئیر صاحب اور آپ کی پوری ٹیم کو عمران جونئیر ڈاٹ کام کے نو سال مکمل ہونے پر مبارکباد۔ یہ محض رسمی جملہ نہیں بلکہ ہماری خوشی اور محبت کا حقیقی اظہار ہے۔یہ تو یاد نہیں کہ کس طرح پہلی کس پوسٹ کے ذریعے عمران جونیئر ڈاٹ کام کے ساتھ جڑا، البتہ ایک سال ہونے کو اور اس ایک سال میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ میں صحافت کا طالب علم اور دنیا صحافت میں ایک نومولود صحافی۔

اگر آپ ایک نوجوان صحافی ہیں یا اس میدان میں قدم رکھنے کا سوچ رہے ہیں، تو میرا مشورہ ہے کہ اس غیر یقینی اور مشکل حالات سے بھرپور دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے عمران جونیئر ڈاٹ کام پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔

یہاں آپ کو موجودہ میڈیا انڈسٹری کی اصل صورتحال نظر آئے گی۔ جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اور وہ تمام چیلنجز جن کا سامنا ایک صحافی کو کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی ماضی کے قصے بھی ملیں گے جو صرف کہانیاں نہیں بلکہ سبق ہیں۔ اور مستقبل کی نوید بھی سنائی جاتی ہے۔

عمران جونیئر ڈاٹ کام کے لیے اپنی تحریر کے عنوان کو جو اسعد نقوی نے جو پنچ لائن بنایا۔ یوں کہیں کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا “جہاں خبر دینے والے خبر بنتے ہیں”۔۔یہاں ایسا بھی نہیں کہ  کہ اداروں یا افراد کے عیب اور برائیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ یہاں مثبت صحافتی اصولوں کو اپنانے والے افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی اور تعریف بھی کی جاتی ہے۔

اگر صحافت میں دلچسپی رکھنے والے عام قارئین کے لیے کہا جائے تو ایسے ہی ہے جیسے “کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا” اس طرح یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ میڈیا انڈسٹری میں ہونے والی ناانصافیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے “پپو” کی نظر سے کوئی بچ نہیں سکتا۔یا یوں کہیں کہ مالکان کے ہاتھ پاؤں پھولنے کے لیے اور قلم کے مزدوروں کو حق دلانے کے لیے “پپو” ہی قائِد صحافت ہے۔

عمران جونیئر ڈاٹ کام کا یہ پلیٹ فارم بڑی بڑی نام نہاد صحافتی تنظیموں سے بڑھ کربرطرفیوں اور  تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں وغیرہ کے خلاف آواز اٹھاتا اور انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔

یوں تو پورا ملک ہی عمران جونیئر صاحب کی نظروں میں ہے، لیکن شہرِ قائد کو تو آپ نے اپنی ہتھیلیوں پر سجا رکھا ہے۔اگر میں ذاتی طور پر کہوں تو میرے دل میں ان کی قدر اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب کراچی کے کچھ صحافیوں کو بے اصولی کے ہمراہ آپ کی مخالفت کرتے دیکھا۔

نوجوان صحافیوں کے لیے میرا پیغام بہت سادہ ہے: صرف ڈگری کافی نہیں، اصل چیز آگاہی اور شعور ہے اور یہ خزانہ آپ کو یونیورسٹیوں میں نہیں بلکہ ایسے ہی پلیٹ فارمز سے ملتا ہے۔آخر میں یہی کہوں گا کہ اگر سیکھنے کا جذبہ ہو توعمران جونیئر ڈاٹ کام صرف ایک  ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک استاد کی حیثیت رکھتی ہے۔(ذیشان حیدر راجہ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں