بول نیوز۔۔ رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے،ادارے صرف عمارتوں، کیمروں اور نشریات سے نہیں چلتے، بلکہ اُن لوگوں کے دم سے زندہ رہتے ہیں جو پس منظر میں خاموشی سے اس کی سانسیں بحال رکھتے ہیں۔ مگر جب وہی لوگ بوجھ سمجھ لیے جائیں، تو پھر عمارتیں تو کھڑی رہتی ہیں، ادارے اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔بول نیوز، جو کبھی خود کو پاکستان کا “نمبر ون” کہلوانے پر مصر تھا، آج بھی اسی دعوے کی گرد میں لپٹا ہوا ہے، معاشی ابتری اور ساکھ کی گرتی ہوئی دیواریں چیخ چیخ کر کچھ اور کہہ رہی ہیں، مگر صاحبانِ اختیار ہیں کہ سننے کو تیار نہیں۔اطلاعات یہ ہیں کہ خواتین ملازمین کے لیے بچی کھچی پک اینڈ ڈراپ سہولت ختم کر کے 10 سے 15 ہزار روپے ماہانہ کنوینس الاؤنس دے دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک مثبت قدم لگتا ہے، اور ہے بھی۔ مگر مرد ملازمین کے لیے نہ کوئی سہولت، نہ کوئی اضافہ، بس وہی پرانی تنخواہ، مہنگا ہوتا پیٹرول، اور اس پر مستزاد رویوں کی تلخی۔ اسی ادارے میں ایک طبقہ ہمیشہ ایسا بھی ہے جو مراعات کی چھاؤں میں پروان چڑھتا ہے۔ یہاں بھی کچھ “خاص الخاص” افراد لاکھوں کی تنخواہوں کے ساتھ اپنی کرسیوں کو دوام دینے میں مصروف ہیں، اور نیچے کھڑے لوگ اُن کے حصے کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ خوف، دباؤ اور خاموشی۔ گزشتہ چند روز قبل جب شہرِ قائد بارشوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ سڑکیں دریا بن چکی تھیں، اور لوگ گھروں میں محصور۔ ایسے میں ادارے کے دو بڑے ھیڈز کی جانب سے حکم آیا کہ ہر صورت دفتر پہنچا جائے۔ نہ آنے والوں کے نام ایچ آر کو دیے جائیں گے۔ گویا وہ ملازم نہیں بلکہ غلام سے بدتر افراد ھوں۔۔یہاں سوال صرف ایک دن یا ایک حکم کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو ان انسانوں کو انسان نہیں سمجھتی۔ جو یہ بھول جاتی ہے کہ ہر ملازم کے پیچھے ایک گھر، ایک کہانی اور ایک مجبوری ہوتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب اختیار غرور میں بدل جائے تو انجام زیادہ دور نہیں ہوتا۔ جب دعائیں بددعاؤں میں بدل جائیں، تو پھر نہ دنیا سنبھلتی ہے، نہ آخرت۔
