ابتک نیوزلاہور بیورومیں نان پروفیشنل ازم عروج پر۔۔

ابتک نیوز لاہور بیورو پر نان پروفیشنل راج،ابتک نیوز لاہور بیورو میں اس وقت ایک سنگین اور ہنگامہ خیز صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جہاں غیر پیشہ ور افراد کی تقرریوں نے پورے ادارے کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، لاہور بیورو کی کمان ایک سابق ٹیلی فون آپریٹر کے سپرد کر دی گئی ہے، جو کہ صحافت کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہیں۔یہ کہانی شروع ہوتی ہے سال 2023 سے، جب ابتک نیوز کے تجربہ کار اور پروفیشنل صحافی بہتر تنخواہوں کے پیکجز پر ٹیلن نیوز کا رخ کر گئے۔ چینل انتظامیہ نے لاہور بیورو کی ذمہ داری ایک پروفیشنل صحافی کو سونپی۔تاہم، اس کہانی کا رخ اُس وقت مڑ گیا، جب  اسے سائیڈ لائن کرکے ایک سابق ٹیلی فون آپریٹر کو رپورٹر بنایاگیا، جو اپنی سیاسی چالاکیوں اور تعلقات کی بنیاد پر وہ جلد ہی کچھ بااثر شخصیات کا قریبی بن گیا۔سابق ٹیلی فون آپریٹر کو جی ایم ایچ آر کی پشت پناہی حاصل تھی، انہی تعلقات کی بنیاد پر وہ ایم ڈی صاحب تک پہنچے، اور جلد ہی ایک پروگرام کی میزبانی بھی ان کے حصے میں آ گئی،جس کا اسکرپٹ جنید بیگ لکھتے رہے۔معاملات اُس وقت بگڑنے لگے جب سابق ٹیلی فون آپریٹر اور جی ایم ایچ آر کو جنید بیگ کی موجودگی کانٹے کی طرح چھبنے لگی اور وہ اسے اپنے راستے کی رکاوٹ محسوس کرنے لگے۔ پھر منصوبہ بندی کی گئی، اور ایک خاتون کو، جن کا کسی بھی نیوز چینل سے کوئی تجربہ نہ تھا، لاہور بیورو میں اسائنمنٹ ایڈیٹر تعینات کر دیا گیا، اور اس کی بہن کو این ایل ای کی حیثیت سے بھرتی کر لیا گیا۔بیوروچیف کو اس کے عہدے سے ہٹادیاگیا اور سابق ٹیلی فون آپریٹر کو نیا بیوروچیف تعینات کردیاگیا۔یہ سب ای میل پرہوا۔۔بیوروسے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جی ایم ایچ آر لاہور آ کر ذاتی تعلقات پر مبنی تقرریوں کو تحفظ دینے لگے۔ ایک اسائنمنٹ ایڈیٹر کو زبردستی کاپی ایڈیٹر بنا دیا گیا، اور پرانے عملے پر نفسیاتی دباؤ بڑھایا جانے لگا۔ سابق بیوروچیف کو عملے کے سامنے بدتمیزی کا نشانہ بنایا گیا، اور اسٹاف میٹنگز میں گالیاں تک دی گئیں۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ دس سال سے ابتک نیوزمیں بطور کاپی ایڈیٹر وابستہ صاحب کوصرف اتنا کہنے پر کہ رپورٹرز صرف ٹکرز ہی نہیں بلکہ مکمل خبریں بھی فائل کریں، ان پر ہراسانی کے جھوٹے الزامات لگا دیے گئے۔سابق ٹیلی فون آپریٹر اور خاتون اسائنمنٹ ایڈیٹر کی جانب سے الزامات کی ای میل ہیڈآفس بھیجی گئی، مگر ایڈمن منیجر اور دیگر عملے کی مزاحمت پر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔شریف النفس کاپی ایڈیٹر نے پھر بھی عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، اور ان کے ساتھ ہی دو مزید لوگ بھی چینل چھوڑ گئے۔اطلاعات کے مطابق ادھر، چینل کے پرانے اسائنمنٹ ایڈیٹر کو بھی مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ انہیں بھی ادارے سے نکالنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ڈائریکٹر نیوز ندیم رضا، جو ایک تجربہ کار صحافی ہیں، نے حالات کا نوٹس لیا ہے، مگرسابق ٹیلی فون آپریٹر کی ناتجربہ کاری اور عدم صلاحیت کے باعث اب تک کوئی بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی۔ حال ہی میں ندیم رضا کی جانب سے دی گئی ایک اسٹوری بھی سابق ٹیلی فون آپریٹر نے مکمل کرکے نہیں دی اور سارا ملبہ او ایس آر پر ڈال دیا، جس کے بعد متعلقہ رپورٹر کو بھی گروپ سے نکال دیا گیا۔لاہور کی صحافتی برادری اس وقت سخت حیرانی اور افسوس کا اظہار کر رہی ہے کہ کبھی قابل ترین صحافیوں کا گڑھ مانا جانے والا ابتک نیوز لاہور بیورو، آج نان پروفیشنلزم، اقرباپروری اور صحافتی اقدار کی پامالی کی علامت بن چکا ہے۔کیا ندیم رضا ان حالات کو سنبھال پائیں گے؟ اور اس سارے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کوئی کارروائی کریں گے؟؟

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں