جنگ کراچی میں  48 سالہ ریکارڈ ملازمت سے ریٹائر

رپورٹ:  اسرار ایوبی

روزنامہ جنگ ملک کا معروف ترین اور کثیرالاشاعت اخبار ہے، جس کی بنیاد 1939 میں دہلی(غیر منقسم ہندوستان) میں رکھی گئی تھی اور اس کی اشاعت جنگ عظیم دوم کے دوران 1941 میں شروع ہوئی تھی۔ برصغیر کے نامور صحافی میر خلیل الرحمٰن نے قیام پاکستان کے بعد1947 میں روزنامہ جنگ کو کراچی سے دوبارہ جاری کیا تھا اور جلد ہی ملک کے دیگر اہم شہروں، راولپنڈی، کوئٹہ، لاہور اور ملتان اور لندن سے اس کے ایڈیشن شائع ہونے لگے۔ بیس اپریل  1978 کو کراچی کے ایک 29 سالہ نوجوان واحد بن ہاشم نے روزنامہ جنگ کراچی میں شمولیت اختیار کی تھی اور ان کی تعیناتی روزنامہ جنگ کے ایڈورٹائزنگ اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں عمل میں آئی تھی۔ بعد ازاں اس ڈپارٹمنٹ کا نام تبدیل کرکے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ رکھ دیدیا گیا تھا، اس ڈپارٹمنٹ کے پہلے سربراہ ضیاء الدین کیست اور پھر سرمد علی تھے جو اب سینیٹ آف پاکستان کے رکن ہیں۔

واحد بن ہاشم  نے روزنامہ جنگ کے ایڈورٹائزنگ اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں تین دہائیوں تک نہایت تندہی اور دیانتداری سے اپنے فرائض انجام دیئے اور 31 برس تک نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد 2009 میں ادارہ جنگ کی ملازمت سے ریٹائر ہوگئے تھے ۔ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے موقعہ پر انہیں ادارہ کی جانب سے مقررہ طریقہ کار کے مطابق گریجویٹی ادا کی گئی تھی جبکہ وہ اپنا جنرل اینڈ پروویڈنٹ فنڈ پیشگی وصول کرچکے تھے۔

واحد بن ہاشم  کا کہنا ہے وہ روزنامہ جنگ کا ایک سنہری دور تھا، روزنامہ جنگ کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف میر خلیل الرحمٰن ایک مایہ ناز صحافی، بہترین منتظم کے علاوہ ادارہ جنگ کے ملازمین کے لئے بیحد شفیق اور ہمدرد شخصیت کے مالک تھے، ان کے دور میں روزنامہ جنگ کے ملازمین کو معقول تنخواہیں،بونس اور طبی سہولیات میسر تھیں۔چونکہ واحد بن ہاشم نے روزنامہ جنگ کے ایڈورٹائزنگ اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ہمیشہ محنت اور دیانتداری سے انجام دی تھیں لہذا روزنامہ جنگ کی انتظامیہ کی نظروں میں ان کی شہرت قابل قدر رہی، ان کا کہنا ہے کہ روزنامہ جنگ کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف میر خلیل الرحمٰن اور ان کے دونوں صاحبزادگان میر جاوید رحمٰن اور میر شکیل الرحمٰن میری خدمات کو  بیحد قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

لہذا جب 2009 میں واحد بن ہاشم ادارہ جنگ سے ریٹائر ہوئے تو  روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمٰن  نے دلی خواہش  ظاہر کی  کہ کہ واحد بن ہاشم ریٹائرمنٹ کے بعد روزنامہ جنگ میں اپنی ملازمت جاری رکھیں۔چنانچہ انتظامیہ نے میر شکیل الرحمٰن  کی ہدایت پر ادارہ کے ریٹائرڈ اور محنتی ملازم  واحد بن ہاشم کی تین دہائیوں کی گرانقدر خدمات اور ان کی اعلیٰ کارکردگی کے اعتراف میں ان کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کرلی تھیں۔

 جس کے نتیجہ میں واحد بن ہاشم ایک بار پھر روزنامہ جنگ کے گروپ منیجر ایڈورٹائزنگ اینڈ اکاؤنٹس کی حیثیت سے ادارہ جنگ کا حصہ بن گئے۔

واحد بن ہاشم نے روزنامہ جنگ کراچی میں 48 سالہ طویل عرصہ مدت ملازمت کے دوران جنگ گروپ کی ترقی اور عروج کے سفر کا نہایت نزدیک سے مشاہدہ کیا انہیں ادارہ جنگ سے طویل وابستگی پر بیحد فخر ہے ۔

انہوں نے اردو صحافت کے میر کارواں میر خلیل الرحمٰن کا سنہری دور دیکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ روزنامہ جنگ کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف محترم میر خلیل الرحمٰن ایک انتہائی تجربہ کار اور جہاندیدہ صحافی ہونے کے ساتھ نہایت غریب پرور انسان تھے۔ آپ ایک سچے مسلمان ، محب وطن پاکستانی تھے اور محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا جذبہ رکھنے کے ساتھ تا زندگی اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے کوشاں رہے۔

میر صاحب شعبہ صحافت میں ملک کے عظیم مفاد میں کوئی کمپرومائز نہیں رکھتے تھے۔ میر خلیل الرحمٰن اگرچہ ایک اخباری سلطنت کے مالک تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی طبیعت کے لحاظ سے عاجز اور نرم خو انسان تھے وہ ادارہ جنگ کے کارکنان کو اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے اور ادارہ کو جنگ کے ایک خاندان کا درجہ دیتے تھے۔میر صاحب کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ بلا تفریق عہدہ و مرتبہ ہر ملازم کے غم و خوشی میں برابر کے شریک رہتے تھے۔واحد بن ہاشم بیان کرتے ہیں کہ ایک بار انہوں نے ادارہ جنگ کی ایک تقریب کے دوران میر خلیل الرحمٰن  کو سربراہ جنگ خاندان کی حیثیت سے دعوت خطاب دعوت دی تھی۔

میر خلیل الرحمٰن نے اپنی پوری زندگی مالک اور ملازم کے اس عظیم رشتہ کو بڑی خوبی سے نبھایا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کراچی میں درجہ چہارم کے ایک ملازم کی حادثاتی موت کی خبر سن کر میر صاحب اسلام آباد میں ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں شریک تھے کہ انہیں ادارہ جنگ کے ایک ملازم کی وفات کی اطلاع ملی لیکن وہ دوران صدر پاکستان کی تقریر ادھوری چھوڑ کر متوفی ملازم کی تدفین میں شرکت کرنے کراچی آگئے تھے اور اس کے جنازہ میں شرکت کے بعد اگلی فلائٹ سے واپس اسلام آباد چلے گئے تھے۔

ایک وقت تھا جب روزنامہ جنگ کی ایڈیٹوریل پالیسی سے ملک کی سیاست اور پالیسیوں کا تعین ہوا کرتا تھا۔ واحد بن ہاشم بیان کرتے ہیں کہ میر خلیل الرحمٰن کے بڑے صاحبزادہ محترم میر جاوید رحمٰن صاحب کی خوبی تھی کہ وہ ادارہ کے ہر کارکن کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے تھے اور ہر ایک کے کام سے بخوبی آگاہ رہتے، وہ ادارہ کے انتظامی امور پر بھرپور گرفت رکھتے تھے اور ادارہ کے ملازمین  کو دوران ملازمت نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت کرتے تھے۔

اسی طرح میر خلیل الرحمٰن کے چھوٹے صاحبزادہ محترم میر شکیل الرحمٰن پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم نصیب ہوا ہے کہ انہیں اپنے کیریئر کے ہر نئے قدم پر کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں جس کے باعث آج سوشل میڈیا کے بے ہنگم اور بے لگام دور میں ادارہ جنگ ناصرف پرنٹ میڈیا میں زندہ و تابندہ ہے بلکہ جنگ گروپ کے قائم کردہ جیو نیوز کا میڈیا کی دنیا کوئی ثانی نہیں ہے۔

واحد بن ہاشم بتاتے ہیں کہ  ان دنوں روزنامہ جنگ کے اشتہارات کے نرخ 240 روپے  فی کالم انچ ہوا کرتے تھے  جبکہ اب کئی سال سے  1760 روپے فی کالم سنٹی میٹرز مقرر ہیں۔ واحد بن ہاشم کہتے ہیں کہ میر خلیل الرحمٰن  کی ادارہ جنگ کے کارکنان کی محبت اور شفقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے عروج  کے پرآشوب دور میں کراچی شہر میں آئے دن کے ہنگاموں، فسادات اور کرفیو کےدوران میر صاحب ادارہ جنگ کے ایک ایک کارکن کی خیریت کے بارے میں سخت فکر مند رہا کرتے تھے اور ان کی ہدایات تھیں کہ سب سے پہلے کہ اپنی قیمتی جان کی فکر کیا کریں۔ستتر سالہ واحد بن ہاشم  روزنامہ جنگ کراچی میں 1978 سے 2009 تک  ریگولر حیثیت سے اور 2009 سے 2026 تک 17 برس کی کنٹریکٹ ملازمت انجام دینے کے بعد آج روزنامہ جنگ کراچی کے گروپ منیجر ایڈورٹائزنگ اینڈ اکاؤنٹس کی حیثیت سے 48 سالہ خدمات انجام دینے کے بعد باعزت طور پر  ریٹائر ہوگئے۔

واحد بن ہاشم کی روزنامہ جنگ کراچی میں 48 برس کی طویل مدت ملازمت اخباری صنعت میں ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے جس کا  کوئی ثانی نہیں۔اس یادگار موقعہ پر روزنامہ جنگ  کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے واحد بن ہاشم  گروپ منیجر ایڈورٹائزنگ اینڈ اکاؤنٹس کے اعزاز میں  ایک باوقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور انہیں ادارہ جنگ کی جانب یادگار تعریفی شیلڈ پیش کی گئی۔واحد بن ہاشم 7 اپریل 1949 کو پیدا ہوئے تھے اور آپ کامرس گریجویٹ کے علاوہ جرمنی سے  کمیونیکیشن پوسٹ گریجویشن ڈپلومہ کے حامل ہیں اور روزنامہ جنگ کراچی کے بیمہ دار فرد کی حیثیت سے ای او بی آئی کے تاحیات پنشنر بھی ہیں۔(اسرارایوبی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں