punjab ki most media friendly wzeer e ittelat

پنجاب حکومت کا میڈیاہاؤسز کا آڈٹ کرانے کا اعلان۔۔

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں ایسا کوئی اخبار نہیں چلے گا جو اپنے ورکرز کو تنخواہ نہیں دے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میڈیا ہاؤسز کا آڈٹ کروایا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس ادارے کے ذمہ ورکرز کے کتنے واجبات ہیں، جبکہ اے بی سی اخبارات اور انہیں ملنے والے اشتہارات کی تفصیلات بھی پبلک کی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں ’’”میڈیا لاز، ریگیولیشنز اور ایتھیکس‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میں خود کو میڈیا کا حصہ سمجھتی ہوں اور اسی تعلق کی بنیاد پر مجھے محکمہ تعلقات عامہ کی ذمہ داری دی گئی۔ ہماری حکومت میڈیا ہاؤسز سے نکالے گئے صحافیوں کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے بتایا کہ رمضان کے آخری عشرے میں صحافیوں کو تنخواہیں دلوانے کے لیے انہوں نے ذاتی طور پر کوششیں کیں اور اب پنجاب میں صحافتی اداروں کے واجبات فوری کلیئر کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں متعدد ڈمی اخبارات کو بند کیا گیا ہے جبکہ ریجنل اخبارات کو بھی اشتہارات دیئے جا رہے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سوشل میڈیا کے استرے ‘‘سے ملک کا برا حال کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی ملک میں افواہ اور جھوٹ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔  وزیراعلیٰ پنجاب نے سائبر ونگ کے قیام کی ہدایت دی ہے تاکہ بدتمیزی اور فیک نیوز کے کلچر کو روکا جا سکے۔ اگر میڈیا اپنا احتساب خود کرے تو حکومت کو مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آج ہر کوئی کیمرہ پکڑ کر خود کو صحافی کہنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ صحافی ہونے کی کوئی باقاعدہ تعریف ابھی تک طے نہیں ہو سکی۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری  نے پیکا قوانین کے حوالے سے کہا کہ  اگر کہیں اس کا غلط استعمال ہو تو حکومت فوری مداخلت کر کے کیس ختم کرواتی ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں