saat samandar paar dosto ke naam

لاہور میں 2 بڑی صحافتی تقاریب کا احوال

تحریر: امجد عثمانی۔۔

آج لاہور میں دو بڑی صحافتی تقاریب تھیں۔۔۔۔دونوں ہی پر مسرت تقاریب تھیں ۔۔۔۔پہلی پنجاب اسمبلی میں پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری۔۔۔۔۔پریس گیلری کے صدر جناب خواجہ نصیر کی دعوت پر پنجاب اسمبلی جانا ہوا ۔۔۔۔صحافیوں کی ایک پروقار تقریب تھی جہاں پنجاب اسمبلی کے باوقار  سپیکر جناب ملک محمد احمد خان نے خواجہ نصیر صاحب اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔۔۔۔تقریب میں لاہور پریس کلب کے نومنتخب صدر جناب ارشد انصاری بھی ہونے چھ سو ووٹوں کے مارجن سے چودہویں مرتبہ صدر بننے پر توجہ کا مرکز تھے ۔۔۔دھیمے مزاج کے سپیکر پنجاب اسمبلی جناب ملک محمد احمد خان کیا ہی شائستہ اور شستہ گفتگو کرتے ہیں۔۔۔۔ان کی گفتگو کے دوران پن ڈراپ سائلنس تھا۔۔۔۔کیا ہی مبہوت کر دینے والی گفتگو تھی ۔۔۔۔۔انہوں نے آج صحافیوں کے حوالے سے اظہار خیال کیا بلکہ درد دل کہا ۔۔۔۔انہوں نے نے تین نکات پر انتہائی مدلل خطاب کیا۔۔۔۔۔انہوں نے  پرنٹ میڈیا کے زوال پر بات کی اور اور خوش خبری دی کہ پرنٹ میڈیا کو مرنے نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔انہوں اظہار تاسف کیا کہ سرکولیشن سکڑ گئی ۔۔۔۔اشتہارات بڑھ گئے۔۔۔۔پھر بھی پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کا برا حال ہے ۔۔۔۔انہوں نے  خبردار کیا کہ اخباری کارکنوں کے حقوق کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کرنے جارہے ہیں۔۔۔۔ یہ معاملہ اب ویج بورڈ ایوارڈ کی طرح لٹکایا نہیں جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو پرائیویٹ ممبر ڈے پر بل بھی پیش کیا جائے گا۔۔۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صحافیوں کا بھی وہی استحقاق ہے جو اسمبلی سٹاف کا ہے۔۔۔۔اس حوالے سے بھی باقاعدہ نظام وضع کرینگے۔۔۔انہوں نے لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری کو تجویز دی کہ وہ بھی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بار کونسل طرز کا سسٹم لائیں۔۔۔۔۔دوسری تقریب لاہور پریس کلب میں تھی اور یہ 2026جناب ارشد انصاری اور ان کی گورننگ باڈی  کی شاندار فتح کا جشن تھا۔۔۔۔اسے جشن انصاری بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔جناب ارشد انصاری نے بھی آج غیر معمولی خطاب کیا۔۔۔۔انہوں نے سابق وزیر اعلی پنجاب جناب پرویز الہی اور وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کو جس انداز میں مخاطب کیا ۔۔۔انہیں یہی لہجہ سجتا ہے ۔۔۔۔۔انہوں نے جناب پرویز الہی جو لاہور کے صحافیوں کا محسن قرار دیا اور کہا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں اور قابل صد احترام بھی۔۔۔۔انہوں نے محسن نقوی کو بھی نیک نام میڈیا مالک اور محسن صحافت قرار دیا ۔۔۔۔جناب ارشد انصاری کا یہ لہجہ اس حوالے سے بہت مثبت ہے کہ پرویز الہی کے بارے میں خبریں تھیں کہ انہوں نے الیکشن کے دوران جناب ارشد انصاری کیخلاف ووٹ مانگے جبکہ سٹی فارٹی ٹو میڈیا گروپ میں ان کے ساتھ غیر مہذب رویے کی بازگشت ہے جس کا تذکرہ انہوں نے اپنے خطاب میں بھی کیا۔۔۔۔۔انہوں نے درست کہا کہ لاہور پریس کلب کی سیاست میں سیاستدانوں کی مداخلت ایسا دروازہ کھول دے گی جو سیاسی جماعتوں کا اکھاڑہ بنادے گی۔۔۔جناب ارشد انصاری نے لاہور پریس کلب میں اپنے مد مقابل جناب اعظم چودھری کو بھی دعوت دی کہ آئیں مل کر پریس کلب کو سنواریں۔۔۔ممبرز کے حقوق کی جنگ لڑیں۔۔بہر حال سٹیٹس مین سپرٹ یہی ہے جو جناب ارشد انصاری نے دکھائی ۔۔۔امید ہے کہ وضع دار اعظم چودھری صاحب بھی دست تعاون بڑھائیں گے۔۔(امجدعثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں