پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف آج بھی اس بات پر قائم ہے کہ میڈ یا کو آزاد ہونا چاہیے ، سوشل میڈیا قوانین پر ابہام موجود ہے حکومت اس پر نظر ثانی کرے گی۔نجی نیوز چینل ہم نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم قانون کے دائرے سے باہر ہیں جن کے لیے قانون بنانے کی ضرورت ہے، حکومت سوشل میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں پر اٹھنے والی آوازوں کو سن رہی ہے اور اس کو دیکھتے ہوئے اس قانون میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے قانون میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ملیکہ بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر لوگ بہت زیادہ غیر اخلاقی چیزیں شیئر کر رہے ہوتے ہیں جس سے لوگوں کی عزت نفس بھی متاثر ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر پابندیاں لاگو کرنے کے لیے حکومت کو پہلے سوچنا پڑے گا کہ کس طرح سے قانون لانا ہے۔ دوسری جانب سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے سوشل میڈیا کنٹرول کرنے سے متعلق حکومتی ضابطوں کے اجراء پر سینٹ کی قانون سازی قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن دیدی ، سینیٹر رضا ربانی نےچیئرمین کمیٹی کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن نے 31جنوری کو سٹیزنز پر وٹیکشن (آن لائن نقصانات کے خلاف ) رولز 2020 متعارف کرائے ہیں،سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ جائزہ لیا جاسکے کہ سوشل میڈیا سے متعلق نافذ کردہ حالیہ رولز الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے منافی تو نہیں ہیں ؟

