تحریر: امجد عثمانی۔۔۔
جناب معین اظہر صاحب لاہور پریس کلب میں ایک گروپ کے چیئرمین ہیں۔۔۔بلا شبہ نیک نام صحافی ہیں اور اسی لیے میرے لیے قابل تکریم ہیں۔۔۔لاہور پریس کلب میں آج ان کی زیر صدارت ایک اجلاس میں ایک تجویز مجھے بھی اچھی لگی کہ یہ کارکن صحافیوں کے حقوق کے بارے میں تھی۔۔۔۔۔میں نے اپنے 25 سالہ صحافتی کیرئیر میں ایسی تجویز پہلی مرتبہ سنی۔۔۔۔سوشل میڈیا پر گردش کرتی پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں نام نہاد یونین رہنماؤں کو علامتی طور پر چوڑیوں کا تحفہ پیش کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی جو کارکنوں کے بدترین معاشی حالات پر چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔۔۔۔یہ تجویز اس لیے بھی دل کو لگی کہ اس سے پہلے عمران جونئیر ڈاٹ کام نے ایک دل دہلا دینے والی خبر دی کہ ایک دو نہیں ایک درجن ٹی وی چینلز میں کارکن صحافی کئی کئی مہینے کی تنخواہوں کو ترس رہے ہیں۔۔۔عمران جونئیر ڈاٹ کام کے مطابق
ایک نیوز میں 3۔ مہینے کی تنخواہ بقایا ہے
بول نیوز میں 2۔ مہینے کی تنخواہ بقایا ہے
نیوز ون میں 2۔ مہینے کی تنخواہ بقایا ہے
365 نیوز میں 2۔ مہینے کی تنخواہ بقایا ہے
نیو ٹی وی میں 2۔ مہینے کی تنخواہ بقایا ہے
آج نیوز میں 4۔ مہینے کی تنخواہ بقایا ہے
ایشیا ون میں 2 ماہ کی تنخواہ بقایا ہے
این ٹی این میں 3 ماہ کی تنخواہ بقایا ہے
چینل فائیو میں 2 ماہ کی تنخواہ بقایا ہے
پبلک نیوز، کیپٹل نیوز، سنو نیوز میں 2 ماہ کی تنخواہ بقایا ہے جبکہ اکتوبر تقریباً آدھا ہوچکا ہے۔۔۔۔۔
معین صاحب۔۔۔۔آپ کی زیر صدارت اجلاس میں تجویز سر آنکھوں پر کہ یہ کارکن صحافیوں کے دل کی آواز ہے۔۔۔۔۔بسم اللہ کیجیے لیکن اپنے یونین لیڈر سے کہ موصوف بیک وقت کئی صحافتی تنظیموں کے" راہ نما" ہیں۔۔۔۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کئی" مناصب" کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے۔۔…بسم اللہ کیجیے کہ موصوف کا ایک ادارہ تنخواہوں کے بحران کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے ۔۔۔۔دوسرے میں ایک بندہ تین بندوں کا کام کر رہا ہے۔۔۔۔۔!!!!(امجد عثمانی)۔۔۔
22