محراب پور میں قتل ہونے والے سندھ کے صحافی عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ چار دن بعد درج کر لیا گیا۔ایس ایس پی نوشہروفیروز نے کہا ہے کہ مقدمہ درج کرانے میں دیر پولیس نے نہیں مقتول کے بھائی نے کی اس کیس میں پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت وہ خود کریں گے۔واضح رہے کہ عزیز میمن نے قتل سے پہلے بیان میں ایس ایس پی نوشہروفیروز کی جانب سے دھمکیاں ملنے کا ذکر کیا تھا۔سندھ کے وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ نے میڈیا بریفنگ میں محراب پور میں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن کے واقعے پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے بتایا کہ عزیز میمن کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ایس ایس پی تنویر تنیو تحقیقات کریں گے۔۔دریں اثنا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں دو دن کے اندر اندر ایک ایم پی اے اور ایک صحافی کو قتل کیا گیا ،ہم چاہتے ہیں کہ انصاف ہو اور پولیس کا نظام غیر سیاسی ہو ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر صحافی عزیز میمن کے اہل خانہ جوڈیشل کمیشن چاہتے ہیں توہم جوڈیشل بنا دیں گے ،اگر وہ چاہتے ہیں کہ کوئی پولیس افسر تحقیقات کرے تو ایسا کرنے کے لیے بھی تیا رہیں ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ صحافیوں کو قتل اور اغواکرنے کی کہانی صرف عزیز میمن تک محدود نہیں ہے ،پورے ملک میں صحافیوں کے خلاف جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں سب کو پتہ ہے ، اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود ہماری حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

