media houses ko 2 saal ke wajubaat ada

پبلک میسجز کیوں نہیں چلاتے؟ پی بی اے کی طلبی۔۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات نے نجی ٹی وی چینل کی طرف سے قانون کے مطابق دس فیصدپبلک میسجز (عوامی آگاہی کے اشتہار) نہ چلانے پر پیمرا سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کی ایسوسی ایشن پی بی اے کوطلب کرلیا،کمیٹی نے سرکاری ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں میں بہت زیادہ تفریق پر حیرت کااظہار کرتے ہوئےسرکاری ٹی وی میں تنخواہوں کے تعین کے نظام اور اس کوکم کرنے کے حوالے سے اقدامات پر جواب طلب کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی میں 2008سے 2021تک بھرتی ہونے والے ملازمین کی لسٹیں مانگ لیں،جبکہ وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات سرکاری ٹی وی پر پارلیمنٹ کی براہ راست نشریات کو تجارتی بنیادوں پر چلانا چاہتی ہے، ماضی میں سابقہ حکومتوں نے پی ٹی وی میں سیاسی بنیادوں پر غیر ضروری بھرتیاں کیں۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا۔ فیصل جاوید نے کہا کہ پی ایم ڈی اےبل کا مسودہ کمیٹی کو فراہم کرنے کے بعد ہم اس پر تبادلہ خیال کریں گے اور اپنی رائے دیں گے۔ اجلاس میں 25 جنوری 2021ءکو ایوان کی طرف سے بھیجے گئے ”اطلاعات تک رسائی کے حق (ترمیمی) بل 2020“ پر مزید غور کیا گیا اجلاس میں 2 اگست 2021ءکو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس کی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نےسرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں موجود زمینوں اور عمارتوں کا آپٹمائزیشن پلان فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ نجی ٹی وی چینلز کوسرکاری ٹی وی سی کی جانب سے لائیو فیڈ کیلئے ادائیگی کرنی چاہئے۔ مجوزہ بل پر مزید غور کمیٹی کے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔

How to write on Imranjunior website
How to write on Imranjunior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں