پیرس میں ہونے والے دنیا کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کے سوسالہ عالمی اجلاس کے موقع پر جہاں دنیا بھر سے صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی وہیں پاکستان سے بھی ایک وفد رانا عظیم اور جی ایم جمالی کی قیادت میں شرکت کیلئے پیرس پہنچا، اجلاس میں کانگریس میں شریک پاکستانی نمائندوں نے ملک میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ شرکاء کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو سکیورٹی خطرات، قانونی دباؤ اور سنسرشپ جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ متعدد کیسز میں صحافیوں پر حملوں کے ملزمان کو سزا نہ ملنا تشویش کا باعث ہے۔آئی ایف جے کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں میڈیا کی آزادی، صحافیوں کے تحفظ اور بہتر ورکنگ کنڈیشنز کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی عالمی قیادت کے تحت پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں صحافتی حقوق کے لیے مزید موثر آواز اٹھائی جا سکے گی۔کانگریس کے دوران مختلف عالمی امور پر اہم قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ اجلاس میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے، قاتلوں کو سزا دلوانے اور اقوام متحدہ کے تحت صحافیوں کے تحفظ کے لیے عالمی کنونشن کی حمایت پر زور دیا گیا۔ جنگی اور تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھی قرارداد منظور کی گئی۔اجلاس میں آزادیٔ اظہار رائے اور میڈیا کی خودمختاری کے تحفظ کو جمہوریت کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا، جبکہ دنیا بھر میں بڑھتی سنسرشپ اور میڈیا پر دباؤ کی مذمت کی گئی۔مزید برآں، مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور خبروں کے معیار کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ فری لانس اور کنٹریکٹ صحافیوں کے حقوق، مناسب معاوضے اور محفوظ کام کے ماحول سے متعلق بھی اہم نکات قراردادوں میں شامل کیے گئے۔خواتین صحافیوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کے خاتمے، صنفی مساوات کے فروغ، اور ڈیجیٹل نگرانی و ہیکنگ سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے بھی جامع اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔واضح رہے کہ پیرس میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس آئی ایف جے کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں عالمی صحافت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
آئی ایف جے اجلاس، پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ پر زور۔۔۔
Facebook Comments
