فوٹو گرافر فیصل مجیب پرقانون نافذ کرنیوالے اہلکاروں کا تشدد، پی ایف یو جے کی جانب سے مذمت کی گئی،دوسری جانب رینجرز کاکہناہےکہ فیصل مجیب کو حراست میں لیا نہ ہی تشدد کیا۔تفصیلات کےمطابق کراچی کے علاقے عزیز آباد میں نائن زیرو کے قریب متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم۔پاکستان) کے یوم شہدا کے اجتماع کی کوریج کے دوران میڈیا فوٹوگرافر فیصل مجیب کو قانون نافذکرنےوالے اہلکاروں نے زدوکوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا،اس سلسلے میں فیصل مجیب نے کہا کہ وہ یادگارشہداء پر آنے والوں کی کوریج کے حوالے سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے گئے تھے،انہوں نے کہا کہ اس دوران ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان نے بانی متحدہ کے حق میں نعرے لگائے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو حراست میں لینا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ایک اور نمائندے محبوب احمد چشتی کو بھی پکڑ لیا، انہوں نےاہلکاروں کو بتایا کہ وہ ڈان اخبار کے فوٹوگرافر ہیں اور مرحوم فوٹوگرافر مجیب رحمٰن کے بیٹےہیں اور وہ اس حقیقت کی تصدیق اخباری تنظیم اور دیگر متعلقہ ذرائع سے بھی کر سکتے ہیں تاہم اہلکاروں نے ان کی بات نہیں سنی اور انہیں زدوکوب کرنا شروع کردیا، انہیں تقریباً ایک گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بعد ازاں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے فیصل مجیب کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی اوروزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیاکہ واقعے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف صحافیوں کے تحفظ کے قوانین کے تحت کارروائی کی جائے کیونکہ فیصل مجیب کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں غیر قانونی حراست میں بھی لیا گیا اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ادھر ترجمان رینجرز کاکہناہےکہ فیصل مجیب کو حراست میں لیا نہ ہی تشدد کیا، دھکم پیل میں اگرنقصان ہوا ہےتورینجرز پورا کرے گی۔

