انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کی ایک نئی عالمی رپورٹ میں پاکستان کے نگرانی اور مواصلاتی ڈیٹا تک رسائی سے متعلق قانونی نظام میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین مختلف اداروں کو وسیع اختیارات فراہم کرتے ہیں، تاہم ان اختیارات کے استعمال پر آزاد اور مؤثر نگرانی کا نظام ناکافی ہے۔
آئی ایف جے کی رپورٹ “Hacked Silence: Journalists and Surveillance — Addressing Legal and Regulatory Challenges” یکم اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی۔ رپورٹ میں پاکستان سمیت بھارت، کینیا، اٹلی، سربیا، برازیل، میکسیکو، ال سلواڈور، لبنان اور اردن کے قانونی اور ریگولیٹری نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے پاکستان سے متعلق حصے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں نگرانی کا قانونی فریم ورک کسی ایک جامع قانون کے بجائے متعدد قوانین اور قواعد پر مشتمل ہے۔ ان میں پاکستان ٹیلی گراف ایکٹ، انویسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا ایکٹ) اور ٹیلی کمیونیکیشن مانیٹرنگ سے متعلق قواعد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی اور امن عامہ کے نام پر ان قوانین کے تحت مواصلات کی نگرانی اور انٹرسیپشن کے وسیع اختیارات دستیاب ہیں۔
آئی ایف جے نے اپنی رپورٹ میں Lawful Interception Management System (LIMS) کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی عدالتی کارروائیوں کے دوران اس نظام کی صلاحیت اور بعض نامزد اداروں کی ٹیلی کمیونیکیشن ڈیٹا تک رسائی کے حوالے سے معلومات سامنے آئی تھیں۔رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان میں تاحال ایسا جامع ڈیٹا پروٹیکشن قانون نافذ نہیں جس کے تحت شہریوں کے ذاتی ڈیٹا، رازداری اور نگرانی کے معاملات کی نگرانی کرنے والا مکمل طور پر آزاد پرائیویسی ریگولیٹر موجود ہو۔ آئی ایف جے کے مطابق اس قانونی خلا کا اثر بالخصوص صحافیوں اور ان کے خفیہ ذرائع پر پڑ سکتا ہے۔
عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید اسپائی ویئر، بڑے پیمانے پر ڈیٹا انٹرسیپشن اور سرحد پار ڈیجیٹل نگرانی نے صحافیوں کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں، جبکہ دنیا کے کئی ممالک کے قوانین ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار پیش رفت کے مطابق مؤثر تحفظ فراہم نہیں کر رہے۔
آئی ایف جے کے مطابق صحافیوں کی نگرانی محض ان کی ذاتی رازداری کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے صحافتی ذرائع کی رازداری، تحقیقاتی صحافت اور عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
آئی ایف جے کی صدر زولیانا لینیز نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ جب صحافیوں کو یہ خدشہ ہو کہ ان کی ہر کال، پیغام یا نقل و حرکت کی نگرانی کی جا سکتی ہے تو وہ حساس معاملات پر تحقیقات سے گریز، ذرائع سے رابطے محدود یا خود ساختہ سنسرشپ اختیار کر سکتے ہیں۔
آئی ایف جے نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز اور اختیارات کے حوالے سے واضح قانونی حدود مقرر کی جائیں اور یہ طے کیا جائے کہ کون سا ادارہ، کن حالات میں اور کس قانونی اجازت کے تحت نگرانی کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں آزاد نگران نظام، صحافتی ذرائع کے قانونی تحفظ، مؤثر عدالتی چارہ جوئی اور نگرانی کے اختیارات کے غلط استعمال پر جوابدہی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایف جے کا کہنا ہے کہ نگرانی کا مسئلہ صرف آمرانہ حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ بعض جمہوری ممالک میں بھی وسیع پیمانے پر بیان کردہ ’’قانونی انٹرسیپشن‘‘ کے اختیارات صحافیوں کی آزادی اور رازداری سے متعلق سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کی مصنفہ انسانی حقوق کی وکیل اور عالمی پالیسی ماہر پاؤلا لیجیا مارٹنز ہیں۔ آئی ایف جے کے مطابق اس تحقیق کے نتائج کو صحافیوں کی نگرانی سے متعلق مستقبل کی پالیسی، وکالت اور قانونی اصلاحات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔آئی ایف جے نے بالخصوص پاکستان سمیت متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل نگرانی سے متعلق قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، آزاد نگرانی کا طریقہ کار قائم کریں اور صحافیوں اور ان کے ذرائع کی رازداری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قابلِ نفاذ قانونی ضمانتیں فراہم کریں۔
12