Media Tribunals

میڈیا ٹریبونلز صرف “شوشا” نکلا۔۔۔؟؟

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے’’ میڈیا ٹربیونلز ‘‘ کے قیام کے لیے منظوری دی نہ ہی اس حوالے سے کسی قانونی مسودے کو حتمی شکل دی گئی ہے۔وفاقی حکومت میڈیا ٹربیونلز کے قیام کے لیے کوئی قانونی بل پارلیمنٹ میں فی الحال پیش نہیں کررہی۔ اس حوالے سے غلط اطلاعات زیر گردش ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف میڈیا میں اصلاحات کے حوالے سے ایک عام بحث ومباحثہ ہوا تھا یہ رائے سامنے آئی تھی کہ میڈیا کو دور جدید کے مطابق ہم آہنگ ہونا چاہیے اور اس سے متعلق حکومتی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ایکسپریس سے ٹیلی فونک گفتگو میں معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت میڈیا سے متعلق اداروں پیمرا ،پریس کونسل آف پاکستان سمیت دیگر میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات کرے گی ۔میڈیا میں اصلاحات کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ قانون سازی یا اقدام پرسی پی این ای ، اے پی این ایس ،پی بی اے ،پی ایف یوجے سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی ۔ان میڈیااصلاحات کے مسودے کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرتب کیا جائے گا ۔حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے ۔پیمرا کے حوالے سے قانون سازی 2002میں ہوئی تھی ۔اب پر نٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا آگیا ہے ۔اس لیے میڈیا کے حوالے سے دور جدید کے مطابق اصلاحات وقت کی ضرورت ہے ۔میڈیا کی اصلاحات کے حوالے سے آئندہ کسی بھی ممکنہ اقدام یا قانون سازی پر وفاقی حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رائے لے گی اور پھر کسی بھی اصلاحات کے مسودے کوقانونی شکل دے کر اس پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ میڈیا ورکرز کو تحفظ ملے اور ان کے مسائل حل ہوں۔

How to Write for Imran Junior website
How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں