وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےکہا ہے کہ پی ایف یو جے نے میڈیا ڈولپمنٹ اتھارٹی بل کے حق میں بیان دیا ہے، سارے پریس کلبوں سے میں نے بات کی ہے وہ اس کے حق میں ہیں، جو میڈیا ٹریبونلز ہے یہ بالکل غلط بات ہے کہ اس میں کوئی سزائیں دینے کا اختیار ہے ۔ دوسری جانب کراچی اور لاہور پریس کلب کے صدور نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بیان حقائق کے برخلاف ہے ، بل کی حمایت نہیں کرتے ، حکومت میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کابل فوری طورپرختم کرے۔ واضح رہے کہ فواد چوہدری نے پہلے بھی کہا تھا کہ میڈیا اتھارٹی بل پر تمام اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کی ہے تاہم بعد ازاں تمام صحافتی تنظیموں نے اس یکسر مسترد کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ پی ایف یو جے نے میڈیا ڈولپمنٹ اتھارٹی بل کے حق میں بیان دیا ہے ۔ سارے پریس کلبوں سے میں نے بات کی ہے وہ اس کے حق میں ہیں۔ فرخ حبیب نے کمیٹی کے ہمراہ تمام لوگوں سے ملاقاتیں کیں ۔یہ جو پی ایم ڈی اے ہے اس میں جو میڈیا ٹریبونلز ہے یہ بالکل غلط بات ہے کہ اس میں کوئی سزائیں دینے کا اختیار ہے ۔اس میں کسی کو بھی ایک دن کی بھی سزا دینے کی بات نہیں کی گئی، کچھ مالکان میڈیا ٹریبونلز کیخلاف ہیں وہ مالکان اس لئے خلاف ہیں کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ جو میڈیا ورکرزجن کو تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ بالخصوص وہ میڈیا ورکرز جن کی آواز نہیں ہے آپ کے کیمرہ مین ہیں این ایل ای ، ڈی ایس این جی ڈرائیورز ہیں جن سے مفت کام کروایا جارہا ہے ۔ ان کے پاس کوئی ریمیڈی نہیں ہے کہ وہ جاکر اپنی آرگنائزیشن سے پیسے لے سکیں، چند میڈیا مالکان کا یہ اصرار ہے کہ ہم میڈیا ٹریبونلز قائم نہ کریں ، اگر ہم نے اپنے ان لوگوں کے لئے کھڑا نہیں ہونا اور حکومت نے ان لوگوں کے حقوق کے لئے بات نہیں کرنی پھر تو فائدہ کوئی نہیں ہے ۔علاوہ ازیں صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے فوادچوہدری کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کا بیان حقائق کے برخلاف ہے، ایک بیان میں انہو ں نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت نہیں کرتے۔ کراچی پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے فوادچوہدری کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ادھر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ لاہور پریس کلب نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کردیا مجوزہ اتھارٹی آزادی صحافت پر قدغنیں لگانے کا ایک ہتھکنڈہ ہے، لاہور پریس کلب میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے معاملے پر اےپی این ایس، سی پی این ای، پی بی اے، پی ایف یوجےکےساتھ کھڑا ہے، پی ایم ڈی اے میڈیاکی آزادی کےخلاف غیرآئینی اور ظالمانہ قانون ہے۔

