ہم نیوز جس نے آگے کی سوچ کے نعرے سے سفر شروع کیا اور اب پوری آب و تاب سے چھوٹی سوچ میں بدلنے کےلیے سرگرم ہیں۔۔برسراقتدار گروپ کے چمچے کڑچھے ,جو ورکروں کی جبری برطرفیوں اور استعفوں کی بھر مار سے ہم نیوز کو کھوکھلا کرنے میں مگن ہیں .اب انکی نظر لاہور بیورو پرمرکوز ہے ,اسے اتفاق کہیے یا سوچی سمجھی پلاننگ کہ ہم نیوز کے مالکان اس وقت لاہور میں ہی ایک اہم ایونٹ کے لیے موجود ہیں ,تو اسی موقع پر لاہور بیورو کو تیزی خالی کیا جا رہا یے. گذشتہ ہفتے ہم نیوز کی پہلے دو ایڈمن افسرجنہوں نےلاہور بیورو دفترکوازسرنوع تیار کروایا.ان دونوں کو جبراً برطرف کردیاگیا. جبکہ اسی سے چند دن بعد ہی تین غریب ڈرائیوروں کو بھی جبری برطرفی کی بھینٹ چڑھادیاگیا, جیسا کہ پپو پہلے ہی بتاچکا ہے کہ اب ہم نیوز سے کام کے بندوں کو نکالنے کا مشن جاری ہے تو انہی ایام میں دو رپورٹرز سے جبری استعفے بھی لے لئے گئے اور گذشتہ قریبا دس برس سے ہم نیٹ ورک کی خدمت کرنے والے آفس بوائےجو کہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیرہیں اسے بھی گھر جانے کا حکم سنادیا گیا اور ساتھ ہی ایک سوئپرکو بھی گھر کی راہ دکھلادی گئی. پپو کے مطابق بیوروآفس میں ان ساری برطرفیوں کا ذمہ دار سرگوشیوں میں بیوروچیف کو گردانا جارہا ہے۔۔کہاجارہا ہے آئندہ آنے والے دنوں میں کیمرہ مینوں سمیت ڈی ایس این جی اپریٹر کے روزگار پر جبر کی تلوار چلانے کے ساتھ ساتھ بچے کچے ڈرائیورکو 12 گھنٹے ڈیوٹی کرانے کا حکم بھی جاری ہونے کا امکان ہے۔۔

