hum network or tankhuaho mein izafa

ہم نیوز میں پھر برطرفیاں شروع۔۔

ہم نیوز میں کافی دنوں سے سناٹا چھایا ہوا تھا اور سب کچھ نارمل طریقے سے چل رہا تھا لیکن اچانک ہفتے کے روز برطرفیوں کی ہوا پھر چل پڑی۔۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ اس مہینے کے اختتام تک تیس سے چالیس ورکرز کو نکالنے کی تیاریاں مکمل ہیں، پپو کے مطابق ہفتے کے روز او ایس آر سے ایک اسائنمنٹ ایڈیٹر، سی این آر سے کاپی ایڈیٹر اور انٹرنیشنل ڈیسک سے ایک ورکر سے جبری استعفے لئے گئے ہیں۔۔پپو کے مطابق تیس سے چالیس لوگوں کو پچیس نومبر تک نکالے جانے کا امکان ہے۔۔پیر کو مزید لوگ نکالے جائیں گے۔۔پپو کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیس سے چالیس لوگوں میں سے آدھے ہیڈآفس اسلام آباد جب کہ باقی لوگ بیوروز سے نکالے جائیں گے۔۔ایک رپورٹر کے متعلق پپو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ استعفا دے چکا اور ان دنوں نوٹس پیریڈ پر چل رہا ہے۔۔ رپورٹر کے استعفے کی وجہ جو سامنے آئی ہے اس کے مطابق وزیراعظم  کی اقوام متحدہ میں تقریر کے موقع پر وہ وزیراعظم کے ہمراہ سرکاری وفد میں امریکا گئے تھے۔۔اس دوران اگر ہم نیوز کی نشریات کا پوسٹمارٹم کیا جائے تو زیادہ تر خبریں اور بیپرز اسی رپورٹرسے لئے گئے، حالانکہ بیوروچیف اسلام آباد کے ساتھ ایک اور رپورٹر بھی امریکا میں تھے لیکن ان دونوں سے زیادہ کام استعفے دینے والے رپورٹر کا سامنے آیا۔۔پپو کے مطابق جب رپورٹر واپس آیا اور آفس جوائن کرکے کام شروع کردیا تو اسے پتہ لگا کہ جتنے دن وہ امریکا میں رہا اس کی غیر حاضری لگائی گئی اور اس کی تنخواہ کاٹے جانے کا کہاگیا جس پر رپورٹر نے ایچ آر کو بتایا بھی کہ وہ باقاعدہ چھٹیاں منظور کرانے کے بعد امریکا گیا تھا، لیکن کسی نے رپورٹر کی نہیں سنی تو وہ بیچارہ استعفا دینے پر مجبور ہوگیا۔۔پپو نے ہم نیوز کے سی ای او دریدقریشی اور سلطانہ آپا کوخبردار کیا ہے کہ اس بار جن لوگوں کی چھانٹیوں کی لسٹ بنائی گئی ہے، ان میں سے اکثریت وہ لوگ ہیں جو کام کے لوگ ہیں، اور انہی گنے چنے لوگوں کے دم سے ادارہ کچھ چل بھی رہا ہے ورنہ نااہلوں کی ایک فوج یہ چینل تباہ کرنے کے لئے پوری طرح تلی ہوئی ہے۔۔پپو نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ برطرفیوں کے لئے جو فہرستیں بنی ہیں وہ کس سے پوچھ کر بنائی گئی ہیں؟؟ کیونکہ مارننگ اور ایوننگ شفٹ کے انچارجز کو پتہ ہی نہیں کہ کسے نکالا جارہا ہے اور نکالے جانے کی وجہ کیا ہے؟؟

How to Write for Imran Junior website
How to Write for Imran Junior website
 
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں