سرکاری ٹی وی میں ایک غیرقانونی بھرتی ہونے والے ایگزیکٹیو پرڈیوسر نے ستر سے زائد غیرقانونی بھرتیاں کرلیں۔۔جب کہ دوسری جانب پی ٹی وی سے چھ نیوز اینکرز کو فارغ کردیاگیا لیکن ان میں سے ایک خاتون اینکر کو واپس بلالیاگیا۔۔ تفصیلات کے مطابق پپو نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی وی میں ایک وفاقی وزیر کی سفارش پر بھرتی ہونے والے ایگزیکٹیو پرڈیوسر نے ملک بھر میں سترسے زائد افراد کو غیرقانونی طور پر بھرتی کرلیا۔۔ پی ٹی وی میں بھرتیوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی پوسٹ کے لئے کسی کو بھرتی کرنا ہوتو پہلے اشتہار دیاجاتا ہے لیکن موصوف جو خود پرچی زدہ ہیں انہوں نے اپنے من پسند سترسے زائد لوگوں کو قانون سے ماورا بھرتی کرلیا۔۔ ایک بھرتی کا حال پپو نے کچھ یوں بیان کیا کہ منگل کے روز یعنی نو،نومبر کو ایگزیکیٹو پرڈیوسر نے ایک لاکھ روپے میں بھرتی کئے جانے والے اپنے کسی سفارشی کو کری ایٹو ڈپارٹمنٹ بھیجا ، جہاں سفارشی سے جب پوچھا گیا کہ آپ کا تجربہ کتنا ہے؟ جواب ملا کچھ نہیں۔۔ پھر سوال کیاگیا کہ آپ کو ایڈٹنگ آتی ہے، سفارشی نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے موبائل پر ایڈٹ کرلیتے ہیں۔۔ جس پر کری ایٹو والوں نے اسے کہا کہ آپ پہلے ایڈیٹنگ کے شعبے میں جاکر ایڈیٹنگ سیکھیں، سفارشی نے اس بات پر اپنی تضحیک محسوس کی اور فوری طور پر ایگزیکٹو پرڈیوسر (ای پی )کو بتایا ، ای پی دوڑے ہوئے کری ایٹو ڈپارٹ پہنچے، اور انہیں مغلظات بکتے ہوئے کہنے لگے، جس بندے کو میں نے جوائننگ کے لئے بھیجا ہے اسے تم لوگ ہوتے کون ہو کسی اور جگہ بھیجنے والے۔۔ گالم گلوچ اور حقارت آمیز لہجہ کری ایٹو والے برداشت نہ کرسکے، معاملہ ہاتھا پائی پر پہنچنے والا تھا کہ نیوز روم سے لوگ دوڑے ہوئے پہنچے اور ای پی کو بچالیا۔۔ معاملہ ڈائریکٹر نیوزتک پہنچا تو ای پی وہاں کہنے لگا کہ ۔۔کری ایٹو والوں کو فوری طور پر معطل کریں یا انہیں نوکری سے نکالیں، جس پر اسے سمجھایا گیا کہ یہ سرکاری ٹی وی ہے اور یہاں کسی کی مرضی نہیں چلتی، قانون قاعدے سے کام ہوتا ہے۔۔ دوسری طرف پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ یہی موصوف پی ٹی وی اسپورٹس پرشو کرنے والے غیرملکی کرکٹرز کے ہوٹل پہنچ جاتے ہیں اور وہاں مشروب مغرب پینے کے بعد خوب غل غپاڑہ کرتے ہیں، چند روز پہلے ڈیوڈ گاور نے موصوف کی شکایت بھی کی، جب کہ ہوٹل انتظامیہ نے بھی غل غپاڑہ کرنے پر انہیں سیکورٹی کی مدد سے نکال باہر کیا اور پی ٹی وی انتظامیہ سے شکایت بھی کی ہے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کو دیکھنا چاہیئے کہ پی ٹی وی میں یہ پرچی زدہ ایگزیکٹیو پرڈیوسر کیا گل کھلارہا ہے؟ فواد چودھری صاحب کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ گزشتہ دور حکومت میں نامور کالم نگار کو ایم ڈی پی ٹی وی بنایاگیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور اب تک وہ کیس چل رہا ہے اور اسی کیس میں کالم نگار کی سفارش کرنے والے کا نام بھی شامل ہے۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غیرقانونی طور پر بھرتی ہونے اور درجنوں غیرقانونی بھرتیاں کرنے والا یہ ایگزیکٹو پرڈیوسر کسی وفاقی وزیرکے لئے گلے کی ہڈی نہ بن جائے۔۔

