خصوصی رپورٹ
پاکستان میں اکتوبر 2026 کا مہینہ صحافت اور ابلاغ عامہ کے شعبے کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ ایک جانب حکومت اور متعلقہ اداروں نے غلط معلومات، جعلی خبروں اور قومی سلامتی سے متعلق حساس اطلاعات کی روک تھام کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات میں اضافہ کیا، تو دوسری جانب صحافتی تنظیموں نے ان اقدامات کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزادیٔ اظہار، ادارتی خودمختاری اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
اس دوران صحافیوں کو قانونی نوٹسز، تحقیقات، گرفتاریوں، مبینہ تشدد، ملازمتوں کے عدم تحفظ اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل کا بھی سامنا رہا۔ ان واقعات نے واضح کیا کہ پاکستان میں میڈیا کو درپیش مشکلات صرف حکومتی پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاشی بحران، ادارہ جاتی کمزوریاں اور تیزی سے تبدیل ہوتا ڈیجیٹل ماحول بھی شامل ہیں۔
آزادیٔ صحافت: عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی صورتحال
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2025 میں اس کی پوزیشن 158ویں تھی۔ اگرچہ درجہ بندی میں پانچ درجے بہتری آئی، تاہم یہ صورتحال اب بھی ملک میں آزادیٔ صحافت کو درپیش سنگین چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستان میں الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی وسعت کے باوجود صحافیوں کو قانونی دباؤ، معاشی عدم استحکام اور تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے۔ خاص طور پر آزاد اور ڈیجیٹل صحافت سے وابستہ افراد کے لیے قانونی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا رجحان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
سائبر کرائم قوانین اور صحافیوں کے خلاف کارروائیاں
اکتوبر کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔ ادارے نے ملک بھر میں سائبر پیٹرولنگ یونٹس کو فعال کرنے اور مبینہ جعلی خبروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کی نگرانی کے اقدامات کا اعلان کیا۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں کی روک تھام اور عوام کو گمراہ کن معلومات سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم صحافتی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر قوانین کے اطلاق میں واضح معیار اور مناسب قانونی تحفظ نہ ہو تو تحقیقاتی صحافت اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید بھی قانونی کارروائیوں کی زد میں آ سکتی ہے۔
اکتوبر میں معروف ٹی وی میزبان اقرارالحسن کے خلاف سوشل میڈیا سے متعلق الزامات کے تحت قانونی کارروائی بھی زیر بحث رہی۔ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور جسمانی و عدالتی ریمانڈ کے مراحل کے بعد 31 اکتوبر کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت دی گئی۔ تاہم ضمانت کا مطلب مقدمے کے الزامات کا حتمی فیصلہ نہیں تھا۔
اسی عرصے میں دیگر صحافیوں کو بھی پیکا قانون کے تحت نوٹسز اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر صحافتی تنظیموں نے قانونی کارروائیوں میں شفافیت اور مناسب عدالتی تحفظ کا مطالبہ کیا۔
پیمرا کی ہدایات اور حساس واقعات کی رپورٹنگ
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے 13 اکتوبر کو دھماکوں، فائرنگ اور دہشت گردی کے واقعات کی براہِ راست ٹیلی ویژن کوریج سے متعلق پابندیوں اور تصدیق شدہ معلومات نشر کرنے کی ہدایات کا اعادہ کیا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر مصدقہ خبروں، سنسنی خیزی اور ایسے مناظر کی نشریات کو روکنا بتایا گیا جو عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب صحافتی حلقوں کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ معلومات کی تصدیق کے نام پر آزادانہ رپورٹنگ کے اختیارات غیر ضروری طور پر محدود نہ ہوں۔ صحافت کا بنیادی اصول درست معلومات کی فراہمی ہے، لیکن اس عمل میں آزاد ذرائع سے تصدیق اور عوامی مفاد میں بروقت رپورٹنگ کی گنجائش بھی برقرار رہنی چاہیے۔
بلوچستان میں بھی سکیورٹی فورسز اور پولیس سے متعلق خبروں کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کی ہدایات سامنے آئیں، جن کے نتیجے میں سرکاری مؤقف اور صحافتی خودمختاری کے درمیان توازن پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔
صحافیوں کے تحفظ اور مبینہ تشدد کے واقعات
اکتوبر 2026 میں ملک کے مختلف شہروں سے صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، تشدد اور دھمکیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
کراچی میں سینئر صحافی کاشف ہاشمی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر پولیس تحقیقات کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ گوجرہ میں صحافی امجد اسلام امجد پر مبینہ حملے اور پولیس کارروائی نے صحافتی تنظیموں کو تشویش میں مبتلا کیا۔
خیبر ضلع میں پریس کلب کے احاطے میں مبینہ کارروائی پر صحافیوں نے احتجاج کیا، تاہم اس واقعے سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث آزادانہ تحقیقات کی ضرورت برقرار رہی۔
اسلام آباد میں صحافی رانا عمران لطیف کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ حملے کے واقعے نے بھی صحافیوں کی ذاتی سلامتی کے مسائل کو اجاگر کیا۔ان واقعات کے بعد صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا کارکنوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کی شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار ثابت ہونے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
صحافیوں کے خلاف 97 خلاف ورزیوں کی نشاندہی
فریڈم نیٹ ورک کی اکتوبر 2026 میں جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف 97 خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔
97
مجموعی خلاف ورزیاں
32
قانونی کارروائی کی دھمکیاں
13
قانونی کارروائیاں
اعداد و شمار اکتوبر 2025 سے اگست 2026 تک کی نگرانی پر مبنی ہیں، صرف اکتوبر 2026 کے نہیں۔ ماخذ: فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ رپورٹ۔
رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں اور نوٹسز کا استعمال آزادیٔ صحافت کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ بعض معاملات میں مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے ہی طویل عدالتی کارروائیاں، قانونی اخراجات اور مسلسل طلبی صحافیوں کے پیشہ ورانہ امور کو متاثر کر سکتی ہیں۔
میڈیا انڈسٹری کا معاشی بحران اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی
پاکستان میں میڈیا کی معاشی مشکلات بھی اکتوبر کے دوران ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آئیں۔
27 اکتوبر کو پارلیمانی صحافیوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف قومی اسمبلی کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا۔
احتجاج کے بعد وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے متعلقہ ٹی وی چینلز، واجب الادا تنخواہوں، متاثرہ کارکنوں اور ملازمتوں سے نکالے گئے افراد کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔
یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ میڈیا کارکنوں کے معاشی حقوق کا مسئلہ اب صرف صحافتی تنظیموں تک محدود نہیں رہا بلکہ پارلیمانی سطح پر بھی زیر بحث آ رہا ہے۔
صحافیوں کے لیے مستقل اور بروقت تنخواہوں کی ادائیگی محض ملازمت کا معاملہ نہیں بلکہ آزاد صحافت کی بنیادی ضرورت ہے۔ معاشی عدم تحفظ صحافیوں کی پیشہ ورانہ آزادی، تحقیقاتی رپورٹنگ اور ادارتی فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسی مہینے اسلام آباد کی آبپارہ اخبار مارکیٹ کی سیلنگ نے پرنٹ میڈیا کی تقسیم اور اخباری صنعت سے وابستہ ہاکروں کے روزگار کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے۔
ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور جعلی خبروں کا چیلنج
پاکستان میں روایتی صحافت کے ساتھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم ڈیجیٹل ذرائع سے خبروں کی تیز رفتار ترسیل کے ساتھ غلط معلومات، جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ گمراہ کن مواد جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔
اکتوبر کے دوران صحافی علی اکبر کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مبینہ طور پر ان کی آواز اور تصویر کی نقل استعمال کرنے والی ویڈیوز کے خلاف شکایت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس نوعیت کے واقعات صحافیوں کی ساکھ اور عوام کے اعتماد دونوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جعلی مواد، شناخت کی جعل سازی اور آن لائن ہراسانی کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین نافذ ہوں، لیکن ساتھ ہی جائز تنقید، آزادانہ اظہار اور تحقیقاتی رپورٹنگ کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
صحافتی تنظیموں کا مشترکہ لائحہ عمل
اکتوبر میں صحافتی تنظیموں کی جانب سے آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں بھی دیکھنے میں آئیں۔
17 اکتوبر کو ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (AEMEND) کے انتخابات میں اظہر عباس صدر منتخب ہوئے۔ تنظیم نے آزادانہ صحافت کو درپیش قانونی اور انتظامی دباؤ پر تشویش ظاہر کی۔
26 اکتوبر کو لاہور میں صحافیوں، صحافتی تنظیموں، سیاسی نمائندوں اور سول سوسائٹی کی ایک نشست میں سنسرشپ، محدود کرنے والی قانون سازی اور میڈیا کارکنوں کے مسائل کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا۔
ان اقدامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحافتی ادارے اپنے پیشہ ورانہ حقوق اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے اجتماعی حکمت عملی کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
پاکستان میں صحافت کا مستقبل اور ضروری اصلاحات
پاکستان میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کا فروغ صرف صحافیوں یا میڈیا مالکان کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت، پارلیمان، عدلیہ، ریگولیٹری اداروں اور سول سوسائٹی سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صحافتی شعبے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے، سائبر کرائم قوانین میں قانونی تحفظ اور شفافیت یقینی بنائی جائے، میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں اور ملازمتوں کے حقوق کا تحفظ ہو اور معلومات تک رسائی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
اس کے ساتھ میڈیا اداروں کو بھی اپنی ادارتی ساکھ، خبر کی تصدیق، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو ترجیح دینا ہوگی۔
نتیجہ: آزاد میڈیا مضبوط جمہوریت کی ضمانت
اکتوبر 2026 کے واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں صحافت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں قانونی، معاشی، تکنیکی اور سلامتی سے متعلق مسائل بیک وقت سامنے آ رہے ہیں۔
اگرچہ متعلقہ اداروں کی جانب سے غلط معلومات اور غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کو عوامی تحفظ کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، تاہم ان اقدامات کی قانونی حدود واضح رکھنا اور صحافتی آزادی کا احترام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
پاکستان میں مضبوط جمہوری اداروں، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی احتساب کے لیے آزاد، ذمہ دار اور معاشی طور پر مستحکم میڈیا ناگزیر ہے۔
آزادیٔ صحافت محض صحافیوں کا پیشہ ورانہ حق نہیں بلکہ ہر شہری کے درست معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس لیے صحافیوں کا تحفظ، میڈیا کارکنوں کے معاشی حقوق اور ادارتی آزادی کا فروغ ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
30