تحریر: شاہد غزالی۔۔
زاہد مظہر پاکستان کے تجربہ کار صحافی اور میڈیا پروفیشنل ہیں، جنہوں نے ملک کے نمایاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں میں کام کرتے ہوئے صحافت میں ایک طویل اور متنوع کیریئر بنایا ہے۔ وہ اس وقت ڈان نیوز ٹی وی میں ایڈیٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور دسمبر 2011 سے ڈان میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں۔ اس طرح انہیں ادارے کے ساتھ تقریباً 15 سالہ پیشہ ورانہ وابستگی حاصل ہے۔ان کے صحافتی سفر میں پرنٹ جرنلزم، ٹیلی ویژن نیوز پروڈکشن، ادارتی امور، نیوز روم مینجمنٹ اور حالاتِ حاضرہ کے مختلف شعبے شامل ہیں۔ ایک سب ایڈیٹر کی حیثیت سے عملی صحافت کا آغاز کرنے والے زاہد مظهر نے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے سینئر ادارتی عہدوں تک رسائی حاصل کی اور پاکستان کے بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے کا قریب سے مشاہدہ کیا۔
پرنٹ جرنلزم سے ٹیلی ویژن صحافت تک
زاہد مظهر نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز ایکسپریس نیوز پیپرز سے بطور سب ایڈیٹر کیا، جہاں انہوں نے خبر کی تدوین، ادارتی فیصلوں، خبروں کی ترتیب اور صحافت کے بنیادی تقاضوں پر عملی مہارت حاصل کی۔
جولائی 2002 میں انہوں نے جیو نیوز میں بطور جونیئر اسائنمنٹ ایڈیٹر شمولیت اختیار کرکے الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا۔ بعد ازاں وہ مین نیوز ڈیسک پر منتقل ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے سینئر پروڈیوسر کے عہدے تک پہنچے۔ اس دوران انہیں ٹیلی ویژن نیوز پروڈکشن، ادارتی رابطہ کاری اور نشریاتی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔
بعد ازاں انہوں نے سما ٹی وی میں بطور کنٹرولر نیوز ذمہ داریاں سنبھالیں، جہاں نیوز روم کے انتظام، ادارتی منصوبہ بندی، خبروں کی ترجیحات کے تعین اور روزمرہ نیوز آپریشنز کی نگرانی جیسے اہم امور ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھے۔ ان تجربات نے انہیں سینئر ادارتی اور انتظامی عہدوں کے لیے مزید تیار کیا۔
ڈان نیوز: ادارتی قیادت کے ساتھ طویل وابستگی
زاہد مظهر نے دسمبر 2011 میں ڈان نیوز میں بطور ایڈیٹر نیوز شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں ایڈیٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سمیت اہم ادارتی عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دیں۔اپنے دورِ وابستگی میں وہ نیوز روم مینجمنٹ، ادارتی حکمت عملی، خبروں کی تیاری اور قومی و بین الاقوامی اہمیت کے حامل واقعات کی کوریج میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہیں پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ میں کم عمر ترین ڈائریکٹر نیوز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ڈان نیوز کے ساتھ ان کا طویل سفر پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے دور پر محیط ہے، جس میں سیاسی تبدیلیاں، سیکیورٹی چیلنجز، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ناظرین کی بدلتی ہوئی توقعات شامل ہیں۔
ڈان نیوز کی ترقی: ریٹنگز، مواد اور پروڈکشن کے معیار میں بہتری
زاہد مظهر کے پیشہ ورانہ کیریئر کا ایک اہم باب ڈان نیوز کی ترقی اور بہتری میں ان کا کردار ہے۔
جب انہوں نے ادارے میں ذمہ داریاں سنبھالیں تو ڈان نیوز ٹیلی ویژن کی ریٹنگز میں تقریباً پندرھویں نمبر پر تھا۔ مسلسل پیشہ ورانہ کوششوں، مؤثر ادارتی منصوبہ بندی اور نیوز روم کے نظام میں بہتری کے ذریعے انہوں نے چینل کو ریٹنگز میں تیسرے نمبر تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کی کاوشیں صرف ریٹنگز تک محدود نہیں رہیں بلکہ خبروں کے معیار، پروگراموں کے فارمیٹس، ادارتی منصوبہ بندی اور پروڈکشن کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ان اقدامات سے چینل کے مجموعی مواد اور پروڈکشن ویلیو میں اضافہ ہوا اور پاکستان کے مسابقتی ٹیلی ویژن نیوز مارکیٹ میں ڈان نیوز کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔
اہم بین الاقوامی تقریبات اور عالمی کوریج
زاہد مظهر کو متعدد اہم بین الاقوامی سیاسی، معاشی اور سفارتی تقریبات کی کوریج کا تجربہ بھی حاصل ہے۔ ان اسائنمنٹس نے انہیں عالمی امور اور بین الاقوامی صحافت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا۔
ان کی نمایاں بین الاقوامی صحافتی ذمہ داریوں میں شامل ہیں:
1. ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس، سوئٹزرلینڈ: عالمی معیشت، بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری، جغرافیائی سیاست اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے متعلق دنیا کے اہم ترین فورمز میں سے ایک کی کوریج۔
2. آل پارٹیز پولیٹیکل فورم، چین: سیاسی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال اور بین الاقوامی سیاسی روابط سے متعلق اہم فورم کی کوریج۔
3. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس، نیویارک، امریکا: اقوام متحدہ کے اجلاسوں، عالمی سفارت کاری اور پاکستان سمیت عالمی برادری کو درپیش اہم معاملات کی رپورٹنگ۔
4. امریکی وسط مدتی انتخابات: امریکی انتخابی عمل، سیاسی رجحانات، ووٹرز کے رویوں اور امریکا کی داخلی و خارجہ پالیسی پر ممکنہ اثرات کی کوریج۔
ان بین الاقوامی اسائنمنٹس نے انہیں عالمی سیاست، سفارت کاری، معاشی امور اور بین الاقوامی پیش رفت کو سمجھنے اور رپورٹ کرنے کا قیمتی تجربہ فراہم کیا۔
تحریری صحافت اور شائع شدہ مضامین
ٹیلی ویژن صحافت اور ادارتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ زاہد مظهر نے ڈان نیوز کے پلیٹ فارم پر مضامین اور تجزیاتی تحریروں کے ذریعے تحریری صحافت میں بھی حصہ لیا ہے۔ ان کی تحریروں میں قومی سلامتی، سیاسی معاملات، بین الاقوامی تعلقات اور پاکستان کے معاشی و تزویراتی مفادات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
ان کے چند اہم شائع شدہ مضامین درج ذیل ہیں:
1. ’’دیر آید، درست آید‘‘ — 16 جون 2014: اس مضمون میں آپریشن ضربِ عضب کے تناظر میں پاکستان کی سیکیورٹی صورتِ حال، دہشت گردی، انتہا پسندی اور کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ایک فیصلہ کن قومی ردعمل کی ضرورت کا جائزہ لیا گیا۔
2. ’’تیسرا ہاتھ‘‘: اس تحریر میں لاہور کے سانحہ ماڈل ٹاؤن، منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس آپریشن، اس کے سیاسی پس منظر اور حکومتی ذمہ داری سے متعلق سوالات کا تجزیہ کیا گیا۔
3. ’’کیا کراچی سی پیک کا مرکز بننے کے لیے گوادر کی جگہ لے سکتا ہے؟‘‘: اس مضمون میں پاک چین اقتصادی راہداری کے تناظر میں کراچی کی معاشی اور تزویراتی اہمیت، پاکستان کے معدنی وسائل اور ریکوڈک و سیندک جیسے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
4. ’’بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا کتنا اثر و رسوخ ہے؟‘‘: اس تحریر میں عالمی طاقتوں کے اثرات اور بین الاقوامی سیاسی و تزویراتی مفادات کے مختلف ممالک میں ہونے والی پیش رفت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
یہ مضامین ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی دلچسپی روایتی خبروں کی رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر پاکستان کی قومی سلامتی، سیاسی صورتِ حال، علاقائی معاملات اور معاشی مستقبل جیسے اہم موضوعات تک پھیلی ہوئی ہے۔
پیشہ ورانہ تنظیموں میں کردار اور AEMEND سے وابستگی
زاہد مظهر صحافتی اور میڈیا سے متعلق پیشہ ورانہ تنظیموں میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (AEMEND) کے رکن ہیں اور اس کی ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
وہ تنظیم کی ابتدائی ایگزیکٹو کمیٹی کا حصہ تھے اور بعد کے ادوار میں بھی اس کمیٹی میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ اکتوبر 2026 میں انہیں ایک مرتبہ پھر ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا۔
AEMEND الیکٹرانک میڈیا کے ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹرز کے پیشہ ورانہ مفادات، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار، ادارتی خودمختاری اور میڈیا کے شعبے میں پیشہ ورانہ ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔
تنظیم میں ان کی مسلسل شمولیت پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ مسائل میں ان کی دلچسپی اور کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
صحافتی اور ثقافتی اداروں سے وابستگی
ادارتی ذمہ داریوں کے علاوہ زاہد مظهر پاکستان کی صحافتی اور ثقافتی برادری سے بھی قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی رکنیت میں درج ذیل ادارے شامل ہیں:
* کراچی پریس کلب (KPC)
* پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ)
* کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ)
* آرٹس کونسل آف پاکستان
کراچی پریس کلب، PFUJ اور KUJ سے ان کی وابستگی ملک کی منظم صحافتی برادری کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ آرٹس کونسل آف پاکستان کے بھی رکن ہیں، جو ادب، فنون، ثقافت اور علمی و فکری سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پیشہ ورانہ اعزازات اور مہارت کے شعبے
زاہد مظهر کو اپنے صحافتی کیریئر کے اعتراف میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل اور مختلف اداروں کی جانب سے انہیں تعریفی اسناد اور اعزازی سرٹیفکیٹس بھی مل چکے ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں متعدد پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں بھی شرکت کی، جس سے بطور صحافی اور میڈیا مینیجر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
ان کے تجربے اور مہارت کے نمایاں شعبوں میں شامل ہیں:
* نیوز روم کی قیادت: نیوز روم کے امور، ادارتی ٹیموں اور روزمرہ نیوز آپریشنز کی نگرانی اور انتظام۔
* نیوز پروڈکشن: ٹیلی ویژن خبروں کی تیاری، پروگراموں کی تشکیل اور نشریاتی امور کا وسیع تجربہ۔
* ادارتی حکمت عملی: خبروں کی ترجیحات کا تعین، ادارتی منصوبہ بندی اور خبروں کے مواد کی نگرانی۔
* حالاتِ حاضرہ: قومی سیاست، سیکیورٹی صورتِ حال اور بین الاقوامی امور کی کوریج اور تجزیہ۔
* میڈیا مینجمنٹ: نیوز روم کے وسائل، پروڈکشن کے معیار اور ادارتی امور میں رابطہ کاری۔
* پیشہ ورانہ نمائندگی: صحافتی تنظیموں میں شرکت اور آزادیٔ صحافت و ادارتی خودمختاری سے متعلق سرگرمیاں۔
نیوز ڈیسک سے سینئر ادارتی قیادت تک
زاہد مظهر کا صحافتی سفر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے سینئر ادارتی قیادت تک پہنچنے کی ایک مثال ہے۔ ایکسپریس نیوز پیپرز سے عملی صحافت کا آغاز، جیو نیوز اور سما ٹی وی میں پروڈکشن اور ادارتی ذمہ داریاں اور پھر ڈان نیوز میں اعلیٰ ادارتی عہدے، ان کے وسیع پیشہ ورانہ تجربے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کی بین الاقوامی اسائنمنٹس، شائع شدہ مضامین، پیشہ ورانہ تنظیموں سے وابستگی اور نیوز روم کی ترقی میں کردار ان کے کیریئر کے اہم پہلو ہیں۔
ایک ایسے دور میں جب میڈیا انڈسٹری ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلی، خبروں کے بدلتے ہوئے رجحانات، بڑھتے ہوئے مقابلے اور ادارتی خودمختاری کے نئے چیلنجز سے دوچار ہے، ان کا پیشہ ورانہ سفر صحافت، ادارتی فیصلوں اور نشریاتی قیادت کے میدان میں طویل عملی تجربے کی نمائندگی کرتا ہے۔
مختصراً، زاہد مظهر کا کیریئر خبر کی تدوین اور نیوز ڈیسک سے شروع ہو کر سینئر ادارتی انتظام تک پہنچنے کا سفر ہے، جس کی بنیاد پاکستان کے نمایاں میڈیا اداروں میں مسلسل پیشہ ورانہ محنت اور تجربے پر استوار ہے۔(شاہد غزالی)۔۔