پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک گیر یوم سیاہ کی کال پر کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ) اور ایپنک کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں کراچی پریس کلب سمیت صحافیوں، وکلاء، انسانی حقوق اور مزدور تنظیموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور 3 نومبر 2007 کو آمر مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اور موجودہ دور میں میڈیا پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی، اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ 3 نومبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے آج کے دن 2007 میں آمر نے آئین کو پامال کیا تھا مگر آج بھی ملک میں صورتحال اس سے مختلف نہیں ایک صوبے میں گورنر راج، آزاد کشمیر میں 5 ماہ سے انٹرنیٹ کی بندش، میڈیا بلیک آؤٹ، پیکا جیسے کالے قوانین کے ذریعے سچ کی آواز کو دبانا قابل مذمت ہے، مقررین نے کہا کہ میڈیا ورکرز کو آج شدید معاشی قتل عام کا سامنا ہے، جبری بر طرفیاں عروج پر ہیں، تنخواہیں کئی کئی ماہ ادا نہیں کی جا رہیں، صحافیوں کو مقدمات اور نوٹسز کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے جو آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ ہے، مظاہرے میں مشترکہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ پیکا سمیت تمام کالے قوانین کو فی الفور ختم کیا جائے، صحافیوں کے خلاف قائم تمام جھوٹے مقدمات اور ہراسمنٹ کا سلسلہ بند کیا جائے، میڈیا ہاؤسز میں جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند کر کے واجب الادا واجبات کی فوری ادائیگی کی جائے، قرار داد میں میٹرو چینل کی بندش اور اس کے خلاف پیمرا کی جارحانہ انتقامی کاروائی کی مذمت کی گئی جس کی وجہ سے ملک بھر کے 500 سے زائد صحافی بے روزگار ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جائے مظاہرے سے پی ایف یو جے کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری جاوید چوہدری، کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان، سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری،سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر عبدالحسیب جمالی، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یاسین آزاد، ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ، مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی، بابائے ریلوے مزدور یونین منظور رضی، لیاقت ساہی، کراچی پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری فاروق سمیع، سی آر اے کے سیکرٹری ندیم احمد، ایپنک کے چیئرمین شکیل یامین کانگا، ایف ای سی ممبران خورشید عباسی، امتیاز خان فاران، دارا ظفر، رانا یوسف، عرفان علی، نعمت اللہ بخاری، اقصیٰ کنول اور دیگر نے بھی خطاب کیا، پرجوش نعروں اور طلاطم بھری جذباتی تقاریر نے حاضرین کے احساسات کو خوب جلا بخشی، اور یوں منگل کی سہ پہر اپنے وقت مقررہ پر شروع ہونے والا احتجاج بعد از مغرب جاری رہا، واضع رہے کہ آج کا احتجاج آزادی صحافت کی تحریک کا پہلا مرحلہ تھا جبکہ 9 نومبر کو کراچی کے تاریخی خالق دینا ہال میں قیام پی ایف یو جے کی یادگار کا افتتاح میئر کراچی مرتضی وہاب کریں گے جبکہ اس موقع پر قائد صحافت افضل بٹ خود موجود اور تقریب کے میزبان ہوں گے جبکہ 10 نومبر کی سہ پہر سے 11 نومبر کی شام تک کے پی سی کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا جس میں شرکت کے لیے صحافیوں کی پرجوش بڑی تعداد نے نام لکھوائے ہیں تاہم آج کے یادگار احتجاج کے آخر میں مقررین نے اعلان کیا کہ قائد صحافت افضل بٹ اور پی ایف یو جے کے مرکزی جنرل سیکریٹری ارشد انصاری کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور تحریک کے ہر مرحلے میں کراچی یونین آف جرنلسٹس ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی، یہ پر امن جدوجہد ملکی آئین، جمہوریت کی بالادستی، پیکا جیسے کالے قوانین کے خاتمہ اور حقیقی آزادی صحافت تک جاری رہے گی، مظاہرے کے اختتام پر میزبانوں نے احتجاج میں شریک تمام جمہوری قوتوں کے بھرپور تعاون پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
32
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل